قندیلیں — Page 88
چناب کے پاس میل ڈیڑھ میل پر واقع تھا۔رات جب ہم بیٹھک میں سوئے تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ آسمان پر سورج کے ارد گرد ہالہ پڑ گیا ہے اور سورج بالکل گرنے کے قریب ہے۔جب میں خواب کی دہشت سے بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور میٹھک کو چاروں طرف سے پانی نے گھیرا ہوا ہے۔اس وقت میں نے سب دوستوں کو جگایا اور باہر نکالئے۔خدا کی حکمت ہے کہ جب ہم سب دوست باہر آگئے اور کچھ سامان بھی نکال لیا تو وہ بیٹھک دھڑام سے گر گئی۔اس کے بعد ہم کو چہ سے ہو کر ایک ماچھی دوستی کے مکان میں آگئے۔اتفاق کی بات ہے کہ وہاں پہنچتے ہی مجھے پھر غنودگی ہوئی۔اور غیبی آواز آئی کہ یہاں سے بھی جلدی نکلور چنا پرجب ہم اس گھر سے نکلے تو وہ بھی سیلاب کی نذر ہوگیا۔اسکے بعد ہ نے ایک مسجد میں پناہ لی تو وہاں جاتے ہی مجھے پھر نیند آگئی تو خدا تعالی کی طرف سے پھر حکم ملا کہ یہاں سے بھی جلدی نکلو۔چنانچہ وہاں سے اپنی ہم نکلے تو اس مسجد کی ایک دیوار گر گئی اور سیلاب کا پانی اس کے اندر اندر آیا۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود کی المانی برکات اور معجزانہ حفاظت اور بار بار کی الہامی تحریک اور ملائکہ کی تائید کے ذریعے نہیں خدا تعالیٰ نے محفوظ رکھنے کا عجیب نشان دکھایا۔(حیات قدسی حصہ اول ص ۴۷) اپنی اپنی سوچ حضرت مولوی محمد حسین صاحب رفیق حضرت اقدس بانی سلسلہ بیان ماتے ہیں کہ تقریبا ۱۹۰۵ء کی بات ہے کہ میں نماز ظہر ادا کرنے کے لئے بہت مبارک قادیان کی اندرونی سیڑھیاں پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص یہ کہتا ہوا اوپر سے نیچے آرہا تھا کہ دعوی اتنا بڑا اور گھڑی بھی باند معنی نہیں آتی کیونکہ حضور نے سادہ انداز میں ڈھیلی ڈھالی