قندیلیں

by Other Authors

Page 74 of 194

قندیلیں — Page 74

۷۴ پیچھے ہٹ گیا۔جب پندرہ بیس طالب علم کرنے گئے تو پھر میں ان کے ساتھ ہو لیا تاکہ اس کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔نہ مجھے پتہ ہے کہ وہ کون سا شخص ہے اور نہ ہی اُسے پتہ ہے کہ اس نے کس کو چیٹر لگائی تھی۔پتہ ہے مجھے یہ واقعہ بڑا پیارا لگتا ہے کیونکہ بچپن میں آدمی ایسے بھی بعض دفعہ تیزیاں دکھا جاتا ہے۔الفضل جون ۱۹۶۶ اور ۱۲ مٹی ) سمیع، مجیب اور معطی کا جلوہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب فرماتے ہیں کہ چند سال کا ذکر ہے کہ ایک دن رات کو بعد مغرب کھانا کھا کر ہم سب حضرت اماں جان کے دستر خوان پر ہی بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا اس وقت گئے کھانے کو جی چاہ رہا ہے خدا کھلا دے (یعنی وہ گنا جیسے پونڈا کہتے ہیں اور پنجابی میں پونا ، حضرت اماں جان نے ایک آدمی بازار دوڑا دیا وہ جواب لایا۔بازار میں کوئی پونڈا نہیں ملا۔فارم کی طرف کوئی آدمی بھیجا گیا۔ادھر سے بھی جو اب صاف آیا کہ گتے ہیں۔پونڈے نہیں ہیں۔خیر اب دو توں تیر خالی گئے تو میر سے بیٹھ گئے۔ابھی باتیں کر ہی رہے تھے اور پانچ منٹ فارم والے پیغام کوائے ہوئے نہیں گزرے تھے کہ بہت مبارک کے دروازے سے سکو می مفتی فضل الرحمن سے حضرت اماں جان کو یکدم آواز دی کہ اتاں جان یہ گنتے گورداسپور سے میں لایا ہوں۔آج وہاں کسی مقدمے پر گیا تھا اور ابھی تانگے پر سیدھا آ رہا ہوں۔یہ کہہ کر ایک پھاندی پونڈوں کی پردہ میں سے دھڑام کر کے اندر پھینک دی۔یہ کہ کر وہ تو چلے گئے مگر ان پونڈوں کا عند الطلب غیب سے آجانے کا لطف ہماری ساری