قندیلیں — Page 60
نے بتلایا کہ احمدی گھرانے کی ہے۔تو مجھے فرمایا کہ حضرت خلیفہ ایج الثانی سہرا باندھنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ایک مرتبہ خاندان کی ایک شادی میں شامل ہوئے جس میں دلہن کو زری والا سہرا پہنایا ہوا تھا حضرت صاحب سخت ناراض ہوئے۔بلکہ فرمایا کہ جب تک اس سہرے کو جلایا نہ جائے میں شادی میں شامل نہیں ہوتا۔چنانچہ فوراً گہرا اتارا گیا۔جلایا گیا۔تب حضور اس میں شامل ہوئے۔اور حضور نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ آئندہ کے لئے سہرے کی رسم کو دور کرنے کے لئے کوشش کرتی رہوں گی۔چنانچہ میں نے عہد کیا ہے کہ میں اس شہر سے کی رسم کو جو ہندوانہ رسم ہے دور کرنے کی کوشش کرتی رہوں گی۔چنانچہ میں نے فوراً دولہا کی پگڑی پر سے سہرے کو اتر وایا۔د تابعین اصحاب احمد جلد سوم - سيرة حضرت ام طاہر صفحہ ۱۸۱۷۱۸۰) نعمت چھین لی جاتی ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ انسان کو جو اجر ملتا ہے وہ سب خدا کی طرف سے انعام و احسان ہوتا ہے۔اگر کوئی اس احسان پر ہے جانخر کی ہے۔اور دوسروں پر جن کو وہ چیز نہیں ملی ہوتی ہنسی اور ٹھٹھا کرے تو اس سے بھی یہ چھین لی جاتی ہے۔دیکھو ایک بچہ کو کوئی مٹھائی یا کوئی ایسی اور چیز دی جائے جو کہ دوسر بیمار بچے کو دینا مناسب نہ ہو اور وہ بچہ اس بیمار کے پاس جائے اور اس کو وہ چیز دکھا دکھا کر چڑائے اور رلائے تو ماں باپ ہر گز یہ پسند نہیں کریں گے کہ اس کے پاس وہ چیز رہنے دیں بلکہ اس سے فوراً وہ چھین لیں گے تاکہ دوسرے بچے