قندیلیں — Page 59
و ڈیلو مر پر نہیں خدا پر بھروسہ ہے حضرت خلیفہ ایسی حلال فرماتے ہیں یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے کہ آدمی ڈپلومے یا سند پر بھروسہ کرے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے جو افسر مدرس تھا۔اور میں بھی پنڈ داد تھا میں افسر مدرس تھا۔مجھ سے کسی بات پر کہا کہ آپ کو ڈپلومے کا گھمنڈ ہے۔میں نے اپنے آدمی سے کہا کہ " ڈپلوما لاؤ جس کو یہ خدا سمجھتے ہیں۔وہ ہمارے پاس بھی ایک ہے۔منگوا کر اسی وقت ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔وہ آدمی بڑا حیران ہوا۔مجھ سے کہا کہ آپ کو کوئی جوش سے ؟ میں نے کہا نہیں۔کیا کوئی رنج ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔آپ نے اسے باعث غرور تکبیر موجب روزی سمجھا ہے۔میں نے اس کو پارہ پارہ کر کے دکھایا ہے کہ میرا ان چیزوں پر بحمد اللہ بھروسہ نہیں۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۸۶ - ۲۷ مٹی ۶۱۹۰۹ ) مہر بان هنا منده آن تیم اسکوترک کر دیا چاہئے محترم عبدالرحمن صاحب اور تحریہ فرماتے ہیں۔" ایک دفعہ جبکہ میرے کسی ایک رشتہ دار کی شادی تھی اور بارات لاہورہ سے آئی تھی۔میں ان کو الوداع کہنے کے لئے ریلوے اسٹیشن قادیان آیا ہوا تھا۔اتفاقاً اس گاڑی میں محترمہ حضرت اُم طاہر صاحبہ بھی کہیں باہر تشریف لے جا رہی تھیں۔انہوں نے جو دولھا کو پھولوں کے سہروں کے ساتھ دیکھا توئیں چونکہ گاڑی کے باہر قریب ہی کھڑا تھا۔مجھے کسی کے ذریعہ بلا بھیجا۔اور دریافت فرمایا کہ یہ کن کی بارات ہے۔کیا کسی احمدی گھرانے کی ہے۔ہمیں