قندیلیں — Page 53
۵۳ مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مجھ کو کوئی ایسی بات بتائیں جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں فرمایا کہ " خدا نہ بننا۔اور رسول نہ بنا۔میں نے عرض کیا کہ حضرت میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔اور یہ بڑے بڑے عالم موجود میں غالباً یہ بھی نہ سمجھتے ہوں۔سب نے کہا۔ہاں ہم بھی نہیں مجھے مولوی صاحب نے فرمایا۔تم خدا کس کو کہتے ہو۔میری زبان سے نکلا کہ خدائے تعالیٰ کی ایک صفت فعال ہے۔وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔فرمایا کہ ہمارا بس مطلب اسی سے ہے۔یعنی تمہاری کوئی خواہش ہو اور پوری نہ ہو۔تو تم اپنے نفس سے کہو کہ میاں تم خدا ہو۔رسول کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے۔وہ یقین کرتا ہے کہ اس کی نا فرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔اس لئے اس کو بہت رنج ہوتا ہے تمہارا فتومی اگر کوئی نہ مانے تو وہ یقیناً جہنمی تھوڑا ہی ہوگا۔لہذا تم کو اس کا رنج نہیں ہونا چاہیے۔حضرت مولوی صاحب کے اس نکتہ نے اب تک مجھے بہت راحت پہنچائی ہے۔(مرقاة الیقین صفحه ۸۸) میں اپنا معاملہ خدا کے سپر د کرتا ہوں حضرت امام اول فرماتے ہیں۔” میرے ایک بنارس کے رہنے والے محسن مولوی عبد الرشید تھے۔وہ مُراد آباد میں رہتے تھے۔ایک مرتبہ ایک مہمان عشاء کے بعد آگیا۔ان بنارسی دوست کے بیوی بچے نہیں تھے۔بيت الذکر کے حجرے میں رہتے تھے۔حیران ہوئے کہ اس دوست کا اب کیا بند دوست کیوں اور کس سے کہوں۔انہوں نے مہمان سے کہا کہ آپ کھانا پکنے تک آرام فرمائیں۔وہ مہمان لیٹ گیا۔اور سو گیا۔انہوں نے وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر یہ دعا پڑھنی شروع