قندیلیں — Page 52
۵۲ کپڑے بھیگنے کی پرواہ نہ کرتا اور زنگانہ ہوتا تو کوئی بڑے نقصان کی بات نہ ہوتی۔لیکن جس بات کے لئے اس نے دوسرے کی تحقیر کی تھی اسی کا مرتکب اس کو بھی یکن میں بات کے لئے اس نے دوسر ے ہوتا۔پڑا۔۱۴۱ مئی ۱۹۰۹ ء درس قبل از نماز عشاء بیت مبارک) مسئلہ میں سمجید گیا حضرت امام اقل فرماتے ہیں۔" ایک بڑا آدمی تھا۔وہ لاہور کا رہنے والا نہیں تھا۔لاہور میں وہ اور ہمیں دونوں باتیں کرتے ہوئے بازار میں ہو کر گزرے۔اس نے کہا دوزخ کے عذاب کو آپ غیر مقطوع مانتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں۔پھر کہنے لگا کہ پھر تو کوئی خوف کا مقام نہیں کیونکہ ایک نہ ایک دن اس سے نجات مل تو جائے گی۔یہ گفتگو جس وقت ہوئی تو ہم بازار چوک میں تھے ہیں نے فور آ جاتے جاتے کھڑے ہو کر جیب میں سے دو روپے نکالے اور کہا کہ یہاں تمہارا کوئی واقف نہیں۔تم یہ دو روپے لے لو اور میں تمہارے سر پر ایک جوتا لگالوں گھبرا کر کیا کہیں مار نہ بیٹھنا مسئلہ میں سمجھ گیا ہوں۔مدعا یہ کہ قیامت کے دن جہاں اولین و آخرین سب جمع ہوں گے۔ایک شریف انسان کیسے اپنی ذلّت گوارا کر سکتا ہے۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۲۶۶) ہمیشہ خوش رکھنے والی بات حضرت امام اول فرماتے ہیں کہ جب میں بھوپال سے رخصت ہونے لگا۔تو اپنے استاد مولوی عبد الکریم صاحب کی خدمت میں رخصتی ملاقات کے لئے حاضر ہوا میں نے