قندیلیں

by Other Authors

Page 177 of 194

قندیلیں — Page 177

166 رسول صلی اللہ علیہ سلم کی اطاعت کا دلفریب رنگ مکرم میجر ریٹائر ڈ منیر صاحب اپنے والد صاحب مولانا غلام احمد صاحب فرج کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ والد صاحب ہمیشہ سندھ میں رہے اور خدمت دین میں مصروف رہے اور اولاد کی درخواست پر کہ آپ نے طویل عرصہ سلسلہ کی خدمت کی ہے۔اب ہمارا جی چاہتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ میں محض اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کے لئے خدا سے باندھا ہوا عہد توڑ دوں میں اپنے آخری سانس تک اپنا عہد نبھا پہنا اپنا فریضہ سمجھتا ہوں۔ایک دفعہ نجی سے واپسی پر ان کی صحت اچھی نہیں منفی۔مزید فرماتے ہیں۔جس جہاز پران کے آنے کا ہمیں علم ہوا۔ہم اس جہاز سے ان کو لینے گئے تو پتہ چلا کہ وہ تو فلائٹ پر نہیں آئے۔امیر دیز نے ہانگ کانگ فیکس دی اور کہا کہ اس کا جواب گل آئے گا۔ہم بڑے پریشان تھے کہ ابا جان کی صحت اچھی نہیں تھی۔خدا خیر کرے۔وہ کہاں رہ گئے اور کیوں رہ گئے۔اگلے روز فیکس کا جو جواب آنا تھا وہ تو آیا ہی ہوگا لیکن علی اصح ابا جان گھر میں داخل ہوئے اور ہمیں حیران کر دیا۔اس وقت کونسی فلائٹ آتی ہے۔آپ کس طرح آئے ہیں ؟۔ابا جان کہنے لگے میں تو رات ہی آگیا تھا لیکن چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے شہر میں سفر کے بعد رات کو داخل ہوں تو مناسب یہ ہے کہ گھر نہ جائیں۔خدا جانے گھر والے کس حالت میں ہوں۔اگرچہ میں کل رات ہی یہاں پہنچ گیا تھا۔لیکن چونکہ رات کا وقت تھا اس لئے رات میں نے بیت مباریک میں گزاری اور صبح ہوتے ہی گھر پہنچ گیا ہوں۔۱۹۹۴ روزنامه الفضل صفحه ۵ - ۲۸ دسمبر )