قندیلیں

by Other Authors

Page 14 of 194

قندیلیں — Page 14

۱۴ کیوں نہ جو بجائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ہاں اگر وہ قطع تعلق کر دے تو تم لاچار ہیں ورنہ تمہارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر تمہارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے ارد گرد ہو تو بلا خوف لومة لائم کے اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔عہد دوستی یرا قیمتی جو ہر ہے اس کو آسانی سے ضائع کر دینا چائیے اور دوستوں سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آئے اسے اغماض اور تحمل کے محل میں اتارنا چاہیئے۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۸ ) مہمانوں کے کھانے کا خیال حضرت مسیح موعود کو اپنے کھانے کی نسبت اپنے مہمانوں کے کھانے کا زیادہ شکر یہ بتا تھا اور آپ دریافت فرمالیا کرتے تھے کہ فلاں مہمان کو کیا کیا پسند ہے۔اور کسی چیز کی اس کو عادت ہے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے کا جب تک نکاح نہیں ہوا تھا تب تک آپ کو ان کی دلداری کا اس قدر خیال تھا کہ روزانہ خود اپنی نگرانی میں ان کے لئے دو وجہ۔چائے۔بسکٹ مٹھائی۔انڈے وغیرہ برابر صبح کے وقت بھیجا کرتے تھے۔اور پھر لے جانے والے سے دریافت بھی فرما لیا کرتے تھے کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں وہ گیا۔یا کسی کی طرف سے ملازمان لنگر خانہ نے تفاضل تو نہیں کیا۔بعض مواقع پر ایسا وا کہ کسی مہمان کے لئے سائن نہیں بچا۔یا وقت پر ان کے لئے کھانا رکھنا بھول گئے تو اپنا سالن یا سب کھانا ، ٹھوا کر اس کے لئے بھیجوا دیا۔(حیات طیبہ صفحہ ۳۷۷)