قندیلیں

by Other Authors

Page 148 of 194

قندیلیں — Page 148

۱۴۸ فرمائی جس پر ڈاکٹر صاحب کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔شفاخانہ کے وسیع صحن میں شامیانے اور خوبصورت قناتیں لگ گئیں اور دو تین گھنٹوں میں قریباً یکصد آدمیوں کو چائے پلانے کا انتظام مکمل ہو گیا۔فجر کی نماز کے تھوڑی دیر بعد حضرت صاحب اپنے مصاحبین کے ہمراہ تشریف لے آئے اور اتنا بڑا انتظام دیکھ کر تعجب اور خوشی کا اظہار فرمایا۔دعوت میں موجود غیر از جماعت معززین کے شوق کو دیکھ کر حضرت صاحب نے ملاقات در گفتگو نصف گھنٹہ تک جاری رکھی۔اس واقعہ کے ساتھ ایک قبولیت دعا کی ایمان افروز مثال وابستہ ہے جس کو بیان کرتے ہوئے عبدالباسط صاحب شاہد کہتے ہیں۔جڑانوالہ کے احباب کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضور فیصل آباد تشریف لا رہے ہیں تو ہر احمدی اس سفر کی تیاری کرنے لگا۔جڑانوالہ کی ایک ضعیف و بیمار معمر خاتون نے اپنے بیٹے کو بالحات و اصرار کہا کہ مجھے بھی اس مبارک سفر پر ساتھ لے جاؤ۔میں بھی حضرت صاحب کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو روشن کرنا چاہتی ہوں مگر کسی مجبوری اور مشکل کی وجہ سے اس بزرگ خاتون کا بیٹا اپنی مادر محترم کی اس خواہش کو پورا نہ کر سکا اور باوجود والدہ کے اصرار اور منت سماجت وہ انکار پر ہی قائم رہا۔جب وہ اپنی والدہ کو چھوڑ کر سفر پر جانے لگا تو اس خاتون نے بڑے مان اور اعتماد سے کہا کہ بیٹا تم تو مجھے پیچھے چھوڑے جارہے ہو مگر میں نے سجدہ میں سر رکھ دینا ہے اور اس وقت تک سجدہ سے سر نہیں اٹھانا جب تک میرا خدا میرے آقا کو یہاں جڑانوالہ لانے اور مجھے زیارت کرانے کا وعدہ نہیں کو لیتا۔اس متوکل اور پراعتماد خاتون کی دعا اور خواہش اس رنگ میں پوری ہوئی کہ حضور غیر معمولی حالات میں جڑانوالہ آنے پر آمادہ ہوئے اور اس خاتون کے جید یہ اور خواہش کا علم ہونے پر اس کے گھر جا کر اس کی خواہش