قندیلیں

by Other Authors

Page 132 of 194

قندیلیں — Page 132

۱۳۲ ہیں؟ کہنے لگے ہیں لعل خان نمبر دار ہوں نہیں بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ اس وقت کیوں آئے ہیں۔کہنے لگا جب آپ شعر پڑھ کر مڑے تو میرے دل میں سخت گھبراہٹ ہوئی۔اس گھبراہٹ میں ہیں باہر نکل گیا۔واپس آکر میں بغیر کھانا کھائے سوگیا۔کچھ دیر بعد میں نے دیکھا ایک بڑا قد آور نوجوان جس کی آنکھیں موٹی اور سرخ تھیں میرے سرہانے اگر کھڑا ہو گیا۔اور اپنے پیر سے جوتا جو ڈیڑھ فٹ لمیا تھا ، آن را اور کہا۔اورجہنم کی تیاری کرنے والے تیرے پاس خدا کا ایک بندہ آیا تجھے جہنم سے بچانے کے لئے مگر تو نے رد کرتے ہوئے لوٹا دیا۔اب میں تیری خبر لینے آیا ہوں اور یہ کہ کہ تین چار جوتے میرے سر پر رسید کر دیئے جن کو ئیں برداشت نہ کر سکا میں نے کہا مجھے معاف کر دو میں مولوی صاحب کا کہنا مانوں گا۔اس پر اس نے کہا۔اسی وقت جا کر معافی مانگ ورنہ اس جوتے سے تیری جان نکال دوں گا۔الفضل ۲۰ اگست ۱۱۹۹۴) بس زیارت کے لئے حضرت منشی اروڑا خاں کو جب بھی ذرا فراغت ملتی تو گھر سے کمبل منگواتے اور چھری کے ختم ہوتے ہی قادیان کو دوڑ پڑتے اور کوئی نہ کوئی نیا تحفہ لے کر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔آپ خود فرماتے ہیں کہ جب میں قادیان آتا تو کسی سے نہیں ملا کرتا تھا۔بیکہ سے اتر کر سیدھا حضرت کی دیوڑھی پر پہنچ جاتا تھا۔بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آتا در حضرت صاحب سے ملتا اور واپس لوٹ جاتا۔حضرت صاحب زمانے منشی جی اتنی جلدی نہیں عرض کرتا۔حضرت۔بس زیارت کے لئے آیا تھا۔حضرت منشی صاحب بیت کہ اس جگہ بیٹھتے کہ حضرت صاحب کا قرب حاصل ہو۔