قندیلیں — Page 131
۱۳۱ کے ذوق و شوق سے اس خدمت کے لئے روانہ ہو رہا ہے۔پس میں انے بیعت کر لی۔غرضیکہ عمل سے بھی تبلیغ ہوتی ہے اور دلوں میں گھر کر لیتی ہے۔تشحید الاذہان مئی ۱۹۶۲ء ) اب بھی اگر نہ سمجھے تو سمجھائی کا خدا ملکانہ میں شدھی کی تحریک کے دوران ایک گاؤں کے نمبردار نے ہندووں سے اڑھائی ہزار روپیہ کے عوض تمام گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ہندو ہونے کا وعدہ کر لیا اور شروع ہونے کی تاریخ بھی مقرر کر لی۔جب حضرت مولوی محمد حسین صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو آپ فوراً وہاں پہنچے اور نمبردار کو ہر طریقہ سے سمجھایا مگر چونکہ اس نے ہندوؤں سے روپیہ لیا ہوا تھا اور دین سے بے بہرہ تھا۔وہ نہ مانا پھر علی ہے کے بڑے بڑے بارسون، لوگوں کو ساتھ لے جا کر بھی سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا۔وہ لوگ بھی کہنے لگے کہ یہ جہنم میں جاتا ہے تو جائے۔چیلا آیا مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ کسی طرح نہ مانا تو یہ شعر پڑھ کر میں وہاں سے بہ ہم تو اپنا حق دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھے تو سمجھائے گا خُدا مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میری طبیعت میں بڑا اضطراب تھا۔راستہ میں گئے کے کھیت میں دعا کی۔رات کو گھر پہنچا۔اس تکلیف سے کھانا بھی نہ کھایا اور سو گیا۔آدھی رات ہوئی تو مجھے روتے ہوئے اور کانپتے ہوئے کسی نے جگایا اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب مجھے معاف کر دیں۔چونکہ اندھیرا تھا اس لئے میں نے پوچھا۔آپ کون