قندیلیں

by Other Authors

Page 99 of 194

قندیلیں — Page 99

٩٩ سے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ایک آپ کی ذات ہے جو خاندان کی پراگندگی اور انتشار کو دور کر سکتی ہے حضور نے فرمایا کہ میں کوشش کروں گا۔ملک صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت فضل عمر نے مجھے رتن باغ میں طلب فرمایا۔اور حکم دیا کہ و دونوں ملک صاحبان سے جاکر معافی مانگیں۔اور پھر مجھے آکر رپورٹ کریں۔اس سے ملک صاحب کو وقتی طور پر صدمہ پہنچا کہ حضور نے ان سے کوئی وضاحت طلب نہیں کی اور نہ کوئی بات سنی اور نون صاحبان سے معافی مانگنے کا حکم صادر فرمایا۔لیکن فرماتے تھے کہ میں بلا چون و چرا اول ملک سر فیروز خان کی کو سٹی پہنچا۔انہوں نے جب مجھے اپنی کو مٹی میں داخل ہوتے دیکھا تو بھاگ کر آئے اور میری موٹر کا دروازہ کھول کر میرے ساتھ زارو قطار رونے لگے اور کہتے جاتے کہ میں قربان ہو جاؤں اس مرزا صاحب پر کہ جس نے مجھ پر احسان کیا۔ملک سر فیروز خان نون روتے جاتے۔اور ملک صاحب سے معافی مانگتے جاتے ، ادھر ملک صاحب نے کہا مرزا صاحب نے مجھے معافی قبول کرنے کے لئے نہیں بلکہ معافی مانگنے کیلئے بھیجا ہے۔خدا کے لئے مجھے معاف کر دو۔پھر آپ میجر سردار خاں صاحب کی کو علی تشریف لائے۔وہاں بھی یہی ہوا۔دونوں بھائی لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے میجر صاحب حضور کے احسانِ عظیم کا ذکر کرتے تھکتے نہیں تھے۔دل صاف ہو گئے اور کدورت دور ہوگئی ملک صاحب خاں صاحب اسی روز حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رپورٹ دی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ملک صاحب آپ کو میرا حکم عجیب تو لگا ہو گا مگر اس کی دو وجوہات تھیں۔ایک تو میں اپنا حکم اپنے ارادتمندوں کو ہی دے سکتا تھا جس کے لئے میرے حکم کی پابندی واجب تھی۔