قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 91
قدرت ثانیہ کا دور اول ( مولوی عبد الواحد صاحب حضرت مسیح موعود کے زمانے سے احمدیت سے متاثر تھے۔آپ کے بعض سوالات کے جواب حضرت مسیح موعود نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں دیئے ہیں اور آپ کی علمیت کی تعریف فرمائی ہے) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ امسیح الثانی ) نے 1909ء کے آخر میں ایک مجلس انجمن ارشاد قرآن مجید کی حقانیت و صداقت کے اظہار کے لئے قائم فرمائی اور 1911ء میں انجمن انصار اللہ دعوت الی اللہ کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے قائم فرمائی۔اس کے علاوہ خود حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے ممالک عربیہ، دہلی، فیروز پور ،لکھنو، بمبئی، کراچی ، کانپور، دیو بند، شاہجہانپور، رامپور سہارنپور، شملہ لاہور چکوال، کشمیر کا ٹھ گڑھ ، قصور اور بٹالہ کے سفر اختیار کئے اور خوب دعوت دین کی قریباً ہر جگہ آپ نے کامیاب جلسے بھی کئے اس کے علاوہ جماعت کے دوسرے سر کردہ اور ممتاز علماء مثلاً شیخ غلام احمد صاحب واعظ، حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت سردار محمد یوسف صاحب ، خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی صدر الدین صاحب وغیرہ نے ہندوستان بھر کے بڑے بڑے شہروں میں دورے کئے اور دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کیا۔انجمن انصار الله انجمن انصار اللہ کی تبلیغی اہمیت اور اس پوزیشن کی وجہ سے جو اسے جماعت میں حاصل تھی۔نیز خلافت اولیٰ کے آخری ایام میں اس انجمن نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی قیادت میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں تو آپ سے عناد رکھنے والوں نے اس مجلس کی کارگزاریوں پر سخت نکتہ چینی کی اور اس کے مخلصانہ اور بے غرضانہ کارناموں کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس انجمن کے جملہ کوائف تفصیل سے تحریر کئے جائیں۔(91)