قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 78
تدرت ثانیہ کا دور اوّل خواتین کے لئے ایک صفحہ شائع ہوتا تھا لیکن با قاعدہ رسالہ آپ نے ہی جاری کیا۔اس رسالہ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے حضرت عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”بہت سی فضول رسمیں اور بدعتیں جو کہ ہمارے گھروں میں رائج ہیں۔ان کے دور کرنے میں ہماری عورتیں جس قدر مدد دے سکتی ہیں۔وہ ایک بین امر ہے۔بچوں کی تربیت اور اصلاح میں عورتیں جس قدر مد ہو سکتی ہیں وہ ایک کھلی بات ہے پس اگر دنیا میں انسان کی پہلی رفیق اور مونس (عورت) اصلاح کے کاموں میں مرد کی ہم خیال ہو جائے تو بہت جلد اصلاحی نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ان امور کو مدنظر رکھ کر میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسالہ محض عورتوں کے لئے جاری کر دوں جو ایک احمدی خاتون کے نقطہ خیال 66 سے مرتب کیا جائے وباللہ التوفیق۔“ اس رسالے نے احمدی خواتین میں علمی مذاق پیدا کرنے کی نہایت اہم خدمت سرانجام دی اور ان میں اخباروں کے مطالعہ کا شوق پیدا کیا۔و الفضل طوفان حوادث اور غیر معمولی حالات میں جنم لینے والے اخبار الفضل نے احمدیت کی مختلف ابتلاؤں اور شدید مصائب کی آندھیوں میں استقلال سے قائم رہتے ہوئے نہایت عظیم الشان اور قیمتی خدمات سرانجام دیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ المسیح الثانی) نے مقدس فریضہ حج کی ادائیگی اور بلا د عربیہ کی سیاحت کے بعد ایک اخبار کی ضرورت کو نہایت شدت سے محسوس کیا جس کی فوری وجہ بعض کم علم اور نئے احمدیوں کا ایسے خیالات وعقائد کا مانا اور پھیلا نا تھا جواحمدیت کی روح کے سر اسر خلاف تھے مثلاً یہ کہ حضرت مسیح موعود “ محض مجدد وقت تھے اور اس سے زیادہ آپ کی کوئی حقیقت نہ تھی نیز یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہے اور خلیفتہ المسیح کی کوئی (78)