قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 66 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 66

قدرت ثانیہ کا دور اوّل میری خواہش کے بغیر میرے سپر دکیا ہے معاون بنیں گے۔اور کچھ لوگ ایسے بھی چاہئیں جواس کام کتابت کو اس مقصد اور نیت سے لکھیں تا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کر سکیں گے۔“ (الحكم 14 جون 1908 ) اس ارشاد گرامی میں حضرت خلیفہ امسیح الاول نے کاتبوں کومرکز سلسلہ قادیان میں اقامت گزیں ہونے کی تحریک فرمائی تھی۔تا کہ اشاعت دین حق کا مہتم بالشان کام باحسن وجوہ پورا ہو سکے۔اس کے علاوہ آپ اشاعت اخبارات کو مفید کام تصور کرتے تھے۔اور ان کی اشاعت میں ہر روک کو رنج وہ قرار دیتے تھے۔چنانچہ اخبار بدر بعض وجوہ کی بناء پر چند دن کے لئے بند ہوا تو آپ نے فرمایا: ” میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ قادیان سے کوئی مفید سلسلہ جاری ہو اور وہ رک جائے البدر کا چند روزہ وقفہ رنج تھا۔“ (الحكم 21 مئی 1912 ) حضرت خلیفہ امسیح الاول پریس کو جو اہمیت دیتے تھے وہ محترم ایڈیٹر صاحب الحکم کے مندرجہ ذیل بیان سے ظاہر ہے : میں نے بعض اوقات چاہا کہ اسے (احکام ) بند کر دوں مگر مسیح موعود کے جانشین اور خلیفہ نے مجھ سے تین مرتبہ عہد لیا کہ میں اسے بند نہیں کروں گا۔یہ عہد بتاتا ہے کہ منشاء الہی ہے کہ خادم سلسلہ احکم زندہ رہے۔“ (الحکم 7 نومبر 1911 ) حضرت خلیفتہ المسیح اول نے اخبارات کی ضرورت اور اہمیت کو جس حد تک سمجھا تھا اس کا کسی قدر اندازہ آپ کے مندرجہ بالا ارشادات گرامی سے ہوتا ہے۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح اول جماعت میں پریس اور اس کی اہمیت کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اخبارات کی پالیسی کا بھی خیال رکھتے تھے چنانچہ آپ اپنی جماعت کو نصیحت فرماتے ہیں کہ : وو ایک اور امر بھی اس جگہ ذکر کرنے کے قابل ہے۔آج کل بہت سے اخبارات نے یہ رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ باغیانہ یا مفسدانہ خیالات کو پھیلانے اور (66)