قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 63
قدرت ثانیہ کا دور اول نسخہ ہے جو ان کے پاس محفوظ ہے۔اس کتاب کا پورا نام فصل الخطاب فی مسئلہ فاتحہ الکتاب“ ہے اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا نام نامی یوں لکھا ہے: عمدة المفسرين وزبدۃ المحدثین مولوی حکیم نورالدین صاحب۔“ 128 صفحات کی یہ کتاب مولوی فضل الدین صاحب گجراتی (حنفی عالم ) کے عدم فرضیت قرآت فاتحہ کے دلائل وسوالات کے جواب میں لکھی گئی ہے اور قدیم علم کلام کی طرز پر ہے۔مولوی صاحب موصوف کے سوال فارسی زبان میں ہیں اور حضرت خلیفہ اول کے جوابات اردو زبان میں ہیں۔جن میں قرآت فاتحہ کے متعلق جملہ مسائل زیر بحث آئے ہیں مثلاً بدوں فاتحہ نماز جائز نہیں۔لا صلوۃ الا بفاتحہ الکتاب کی تشریح اور لا‘ کے متعلق تحقیق۔سورہ فاتحہ پڑھنے کے دلائل۔عدم فرضیت قرات فاتحہ پر صحابہ کے اجماع کا جواب وغیرہ وغیرہ۔12- عربی تفسیر القرآن ( غیر مطبوعہ ) حضرت خلیفہ اول ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کے علم تفسیر کے تبحر و وسعت کا اندازہ گزشتہ اوراق میں ہو چکا ہے۔اسی لئے آپ کے درس قرآن کو عجائب زمانہ میں سے سمجھتے ہوئے لوگ دور دور سے سننے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ان درسوں کے مختلف مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نوٹ موجود ہیں۔ان کے علاوہ آپ نے ایک تفسیر عربی زبان میں بھی تحریر فرمائی جس کا مسودہ میاں عبدالمنان صاحب عمر کے پاس موجود تھا۔اس تفسیر کے متعلق تعریفی نوٹ لکھنا تحصیل حاصل ہے کیونکہ آپ کی تفسیر اپنوں اور بیگانوں سے اپنی عظمت کا سکہ منوا چکی ہے۔اس کا اسلوب بیان ”بدر‘ کے ضمیمہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔جہاں اس کا کچھ حصہ شائع ہوا ہے۔سورہ یوسف کی تفسیر میں عنوان کے ساتھ آپ نے (محرم 31ھ ) تاریخ لکھی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ تفسیر آپ کی زندگی کے آخری ایام کا کارنامہ ہے۔اس تفسیر کی دو نمایاں خوبیاں (63)