قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 62
تدرت ثانیہ کا دور اوّل کو مکمل ہو گیا اور جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے آپ روزانہ کم از کم چھ درس دیا کرتے تھے گویا کہ اڑھائی سال کے عرصہ میں چھ مرتبہ دنیا کو اس عظیم الشان کتاب کے معانی و مطالب سے آگاہ فرمایا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے نہ صرف جماعت احمدیہ میں بلکہ دنیائے اسلام میں تفسیر قرآن کا خاص شوق پیدا کر دیا۔بعض روایات کے مطابق مشہور مفکر اسلام مولانا عبید اللہ صاحب سندھی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ”موجودہ اسلامی دنیا میں تفسیر قرآن کی جونئی رو پیدا ہوئی ہے۔وہ مولانا نورالدین کی پیدا کردہ ہے۔“ آپ کے یہ بیش قیمت درس محفوظ کرنے کے لئے حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی نے ان نوٹوں کی روشنی میں سورہ بقرہ کی تفسیر شائع کی۔اور سارے قرآن مجید کے نوٹ بھی شائع کئے۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار ” بدر میں پورے قرآن کے نوٹ شائع کئے ان نوٹوں میں آپ کی غیر مطبوعہ عربی تفسیر کا کچھ حصہ بھی ترجمہ و تشریح کے ساتھ شائع ہوا ہے۔فخر الدین ملتانی صاحب نے بھی نوٹوں کا ایک مجموعہ شائع کیا اور حیدر آباد کے احمدی بزرگ میر محمد سعید صاحب نے آیتوں کے نمبر دے کر ساتھ نوٹ شائع کئے۔11 - فصل الخطاب "مرقاۃ الیقین“ پڑھتے وقت یہ جملہ پڑھ کر کہ میں نے اپنی کئی کتابوں کا نام فصل الخطار رکھا۔ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ مشہور و متداول فصل الخطاب کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کی تصنیفات میں کوئی اور کتاب بھی اس نام کی ضرور ہوگی۔چنانچہ میں نے اس امر کی تحقیق کے لئے حضرت خلیفہ اول کی لائبریری (نور لائبریری) سے رجوع کیا تو وہاں میرا مقصد حاصل نہ ہوا۔البتہ اس کوشش کے دوران میرے مندرجہ بالا خیال کو تقویت دینے کی ایک اور وجہ پیدا ہوگئی اور وہ یہ کہ 24 مئی 1910ء کے الحکم میں فصل الخطاب نامی دو کتابوں کا ذکر تھا۔جو بیندہ یا بندہ۔میاں عبدالمنان صاحب عمر کے پاس گوہر مرادل گیا اور آئمکرم کا خیال تھا کہ جماعت بھر میں یہی ایک (62)