قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 35
قدرت ثانیہ کا دور اوّل عرفانی ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت نواب محمد علی خان صاحب، حضرت میاں بشیر احمد صاحب، حضرت میر ناصر نواب صاحب، مولوی غلام حسن صاحب رجسٹرار پشاور ، حکیم محمد حسین صاحب قریشی ، قاضی ظہور الدین صاحب اکمل ، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب غرضیکہ تمام اکابرین امت نے اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ حضرت مسیح موعود کے جانشین مولانا نورالدین صاحب ہوں۔حضرت مولوی صاحب نے اس پیشکش کے بعد مندرجہ ذیل رقت انگیز تقریر فرمائی۔جس کا کچھ حصہ درج ذیل ہے: میری پچھلی زندگی پر غور کرو میں کبھی امام بننے کا خواہش مند نہیں ہوا۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہش مند نہیں اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔۔۔۔۔اگر تم میری بیعت کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشار تا فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور میرا سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر کے زمانے میں صحابہ کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنا پڑیں سب سے اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔۔۔۔۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہا اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔۔۔۔اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اُٹھاتا ہوں جس نے فرما یا ولتكن مِنْكُم أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الخير یا درکھو ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔“ ( بدر 2 جون 1908ء) (35)