قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 24 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 24

قدرت ثانیہ کا دور اول بچے آپ کی نگرانی میں بلکہ آپ کے خرچ پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔غرباء کی کثیر تعداد آپ سے فیض یاب ہوتی تھی۔آپ کی یہ ہجرت ہر احمدی کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ان دنوں آپ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں قادیان سے بھیرہ تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے ایک مضمون بعنوان وطن میں بے وطن، تحریر فرمایا جس میں قادیان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ محبت وعقیدت کا بدرجہ غایت اظہار کیا۔آپ فرماتے ہیں: ایک دنیا دار نے جو میرے قدیمی وطن بھیرہ ضلع شاہ پور کا رہنے والا ہے۔جہاں بیٹھ کر میں نے یہ مضمون لکھنا شروع کیا ہے مجھ پر بہ سبب ایک بدظنی کے جو دنیا داروں کا خاصہ ہے ایک دعوئی دیوانی دائر کیا جس کا سمن مجھے اپنے عزیز وطن قادیان دار الامان سے نکال کر کھینچے کھینچے یہاں لایا جہاں میرا مولد ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ تیرا وطن ہے تیرے باپ دادے کی جگہ ہے۔یہاں رہنا چاہیئے۔وہ تو یہ کہتے ہیں اور محبت بھرے دل سے کہتے ہیں پر میں حیران و سرگرداں ہوں کہ یا الہی میں کہاں آگیا یہ کس گناہ کی شامت ہے۔جو میں چند روز کے واسطے مسیح کے قدموں سے دور پھینکا گیا ہوں۔میرے خدا میرے گناہ بخش اور مجھ پر رحم فرما کہ تو غفور الرحیم ہے اور تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو بخشے۔مقدمہ میں کچھ میرا بہت حصہ نہ تھا مگر میرے ساتھ اصل مدعی علیہ ایک اور صاحب ہیں اور فریقین میں مصالحت کی خاطر مجھے تاریخ مقدمہ سے کچھ پہلے آنا پڑا اور کچھ پیچھے ٹھہر نا پڑا اور اس طرح چند روز کے واسطے میں بالکل مسافر بن گیا۔( بدر 26 مارچ 1908ء) ایک اور مضمون میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربے کی بناء پر کہتا ہوں کہ بے شمار کتابوں کے پڑھنے نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا جس قدر خدا کے صادق بندوں کی صحبت نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔اور اب میں سالہا سال سے تجربہ کر رہا ہوں کہ قادیان میں بیٹھ کر جس قدر فائدہ میں نے اُٹھایا ہے۔اپنی ساری عمر میں نہیں اُٹھایا جو قادیان سے باہر بسر کی۔(24)