قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 23 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 23

قدرت ثانیہ کا دور اوّل کی بھلائی اور احسان اپنا مشن سمجھتا ہے اور اس کا ذریعہ ایک ہسپتال سمجھتا ہے ایک ایسی بستی میں جا دھونی رمائے گا جہاں ایمان اور علم وعمل کا امتزاج ایک نئی دنیا کی بنیادیں استوار کر رہا ہے۔جہاں اس شخص کو جو اپنے طبی اور دیگر علمی کمالات کی وجہ سے مرجع عوام وخواص بنا ہوا ہے۔نئی زمین اور نئے آسمان کے معمار کے ساتھ شامل ہو کر ان کی تعمیر میں اہم اور نمایاں کردارادا کرنا ہوگا۔چنانچہ ابھی یہ عمارتیں زیر تکمیل ہی تھیں کہ آپ کسی ذاتی کام کے سلسلہ میں لا ہور تشریف لے گئے۔لیکن اپنے محبوب اور پیارے امام سے اتنا قریب ہونے پر ملے بغیر جانا گوارا نہ کیا اور آپ شوق زیارت کی تکمیل کے لئے 1893ء میں قادیان پہنچ گئے۔آپ چند گھڑیوں کے لئے زیارت امام سے خود کو تازگی بخشنے گئے تھے لیکن اب آپ کی منزل آچکی تھی یہ عظیم الشان انسان اپنی عمر کا ایک کثیر حصہ علم و تجربہ حاصل کرنے میں گزار کر میدان عمل میں پہنچ گیا۔اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ والوں کی یہی بستی آپ کی جولانگاہ بننے کے قابل تھی۔حضرت مسیح پاک نے فرمایا ”مولوی صاحب اب تو آپ فارغ ہوں گے۔‘ دستِ قدرت نے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ہمیشہ کے لئے دنیا کے دھندوں سے فارغ کر دیا اور کبھی خواب میں بھی وطن کا خیال نہ آیا۔قادیان میں آپ کی زندگی کا ہر لحہ بنی نوع انسان کی روحانی اور جسمانی بیماریوں کی اصلاح میں صرف ہونے لگا۔اور آپ نے وہاں مردوں اور عورتوں میں با قاعدہ درس قرآن مجید جاری کر دیا۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ : میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاں پڑھنے جایا کرتی تھی آپ نے میرے لئے اور میری ساتھیوں کے لئے درس جاری فرمایا تھا اور فرماتے تھے کہ اب تم آؤیا نہ آؤ اس کا ثوب تمہیں ملتا رہے گا کیونکہ تمہارے لئے ہی جاری کیا گیا تھا۔“ اصحاب احمد جلد دوم ص 485) اور یہاں اپنا مطب بھی کھول لیا۔جس سے صدہا مریض مفت دوا حاصل کرتے تھے۔متعدد (23)