قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 19 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 19

قدرت ثانیہ کا دور اول اس کے بعد 1879ء میں سفر کشمیر اختیار کیا جس کی تحریک آپ کو مندرجہ ذیل رویاء سے ہوئی فرماتے ہیں۔۔۔دالان میں آتے ہی مجھ پر نوم طبعی طاری ہو گئی۔میں لیٹ گیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس وقت آپ کی عمر پچیس (25) برس کے قریب معلوم ہوتی تھی گویا وہ عمر تھی جب آپ کی شادی ہوئی ہوگی میں نے دیکھا کہ بائیں جانب سے آپ کی داڑھی خش خشی ہے اور دہنی طرف بال بہت بڑے ہیں اور میں حضور کے پاس بیٹھا ہوں۔میں نے سوچا کہ دونوں طرف کے برابر ہوتے تو بہت خوبصورت ہوتے۔پھر معا میرے دل میں آیا کہ چونکہ اس حدیث کے متعلق مجھ کو تامل ہے اس لئے یہ فرق ہے۔تب میں نے اس وقت دل میں کہا کہ اگر سارا جہاں بھی اس کو ضعیف کہے گا تو بھی میں اس حدیث کو صحیح سمجھوں گا۔یہ خیال کرتے ہی میں نے دیکھا کہ دونوں طرف داڑھی برابر ہو گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مجھ سے کہا کہ کیا کشمیر دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا ”ہاں یا رسول اللہ۔آپ چل پڑے اور میں پیچھے پیچھے تھا۔بانہال کے رستہ سے ہم کشمیر گئے۔جموں کشمیر میں ہزار ہا بندگان خدا کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ ولی عہد پونچھ مہاراجہ پونچھ، مہاراجہ کشمیر، ولی عہد کشمیر جیسی بڑی ہستیوں کے باقاعدہ معالج رہے۔نومبر 1879ء میں آپ کی کتاب فصل الخطاب فی مسئلہ فاتحہ الکتاب شائع ہوئی 1880ء میں انجمن اشاعتِ اسلام کے ممبر بنے۔کشمیر میں اقامت کے دنوں میں ہی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے جس کی ایمان افروز تفصیل مندرجہ ذیل ہے: مقبول احمدیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا صاحب کی طبع صافی میں جستجو اور معاملہ فہمی کا قیمتی مادہ کثرت سے ود یعت فرمایا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے سچے علم اور گیان کی تلاش میں ہزاروں کوس کا سفر کیا اور (19)