قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 18 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 18

مقتدرت ثانیہ کا دور اول کی سوانح ” مرقاۃ الیقین سے ہوسکتا ہے۔بھیرہ میں آپ کی زندگی علمی اشغال اور طب کے ذریعہ خدمت خلق میں بسر ہونے لگی۔آپ کے اس زمانے کے بعض مباحثے اور آپ کے طبی احسانات بھی نا قابل فراموش ہیں چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ : بھیرہ اس وقت پنجاب بھر کے بیماروں کے واسطے رجوع کا مرکز بن گیا۔دور ونزدیک سے لوگ آنے شروع ہو گئے۔صدہا بیماروں کا روزانہ علاج کیا جاتا تھا۔اور دوائی حسب معمول مفت (حیات نورالدین صفحہ 153) دی جاتی۔“ بھیرہ میں آپ کی شادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی جو مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی کی صاحبزادی تھیں۔یہاں آپ نے اپنے مطب اور رہائش کے لئے بغیر کسی منظوری و نقشہ بنوانے کے مکان بنوانا شروع کر دیا۔جب اس کی تعمیر شروع ہوگئی تو ڈپٹی کمشنر نے غیر معمولی تعاون کرتے ہوئے وہ زمین آپ کو دے دی بلکہ مکان کا پشتہ بھی سرکاری خرچ پر بنوا دیا کیونکہ ادھر بدر و تھی۔جس طرح یہ مکان بغیر منظوری و نقشہ کے شروع کر دیا گیا تھا اسی طرح اس وقت آپ کے پاس مکان بنوانے کے لئے سرمایہ بھی نہ تھا اور آپ نے اپنے ایک ہندو دوست سے قرض حاصل کیا تھا۔جب 1200 روپے خرچ ہو چکا تو آپ لارڈلٹن کے دربار کے سلسلہ میں دہلی تشریف لے گئے۔یہ سفر آپ کی زندگی کے سفروں میں سے خاص طور پر عجیب ہے کیونکہ اس سفر میں قدم قدم پر خدا کی غیر معمولی نصرت و تائید کا اظہار ہوا۔دہلی میں آپ کی ملاقات ایک دیرینہ ہمد روشی جمال الدین صاحب سے ہوئی جن کا نواسہ محمد عمران دنوں بیمار تھا۔اس کے علاج کے سلسلہ میں آپ دوبارہ بھوپال تشریف لے گئے۔منشی صاحب موصوف نے آپ کو دو قسطوں میں 1200 روپے دئے اور اس طرح آپ کا قرض اُتر گیا چونکہ یہ سفر صرف منشی صاحب کے عزیز کے علاج کی غرض سے تھا اس لئے آپ تھوڑا عرصہ قیام فرمانے کے بعد واپس بھیرہ تشریف لے آئے۔(18)