قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 15
قدرت ثانیہ کا دور اوّل ہیں آپ کو ان کے سپرد کر دوں گا اور وہ آپ کو اچھی طرح پڑھائیں گے۔جس پر میں نے کی و عرض کی کہ ملک خدا تنگ نیست و پائے مرالنگ نیست - تب آبه رالنگ نیست۔تب آپ پر تیسری دفعہ وجد کی حالت ہوئی اور فرمایا ”ہم نے قسم توڑ دی۔“ (مرقاة اليقين ص 67-66 ) علم طب کی تحصیل کے ساتھ ساتھ آپ نے مولوی فضل اللہ صاحب فرنگی محلی سے ملاحسن پڑھنی شروع کر دی۔لیکن یہ دو سبق آپ کے جذبہ و شوق تحصیل علم کے مقابلہ میں بہت کم تھے۔اس لئے آپ جلد اُکتا گئے اور فیصلہ کر لیا کہ رامپور واپس چلے جائیں گے۔تاکہ حسب سابق متعد دعلوم بیک وقت سیکھے جاسکیں۔اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ خواہش بہت پسند آئی اور اس نے آپ کے رام پور جانے کا فوری سامان کر دیا۔اور حکیم صاحب بھی نواب رامپور کے بلانے کی وجہ سے رامپور آ گئے اور اس طرح طب کی تعلیم بدستور جاری رہی بلکہ آپ نے پختگی اور وسعت علم کی خاطر ”شرح اسباب حضرت حکیم صاحب کی نگرانی میں مولوی محمد اسحاق کو پڑھائی۔حکیم علی حسین صاحب سے آپ نے دو سال میں قانون کا عملی حصہ ختم کیا اور بعد حصول سند و اجازت عربی علوم کی تکمیل کے لئے میرٹھ پہنچے اور وہاں سے بھو پال تشریف لے گئے۔اتفاق سے وہاں آپ کی تمام پونچی کہیں کھوگئی اور آپ کو سخت تکلیف پہنچی۔یہاں تک کہ آپ فاقوں سے جان بلب ہو گئے اور ایک وقت تو آپ کو یقین ہو گیا کہ آپ شام تک زندہ نہیں رہ سکیں گے۔لیکن خدا نے منشی جمال الدین صاحب مدار المهام ریاست بہاول پور کے دل میں آپ کی سر پرستی کی تحریک کی اور آپ نے مستقل طور پر حضرت مولانا صاحب کو اپنے ہاں رہنے اور اپنے کتب خانہ سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دی۔بھوپال میں آپ نے حضرت مولوی عبدالقیوم صاحب سے بخاری شریف اور ہدایہ پڑھیں اور حدیث وہاں کے مفتی صاحب سے سنی جو انہوں نے محمد بن ناصر حضرمی سے سنی تھی۔بھوپال میں حصول علم طب کے دوران وہاں کا ایک امیر زادہ سوزاک میں مبتلا ہو گیا اور اس (15)