قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 128
قدرت ثانیہ کا دور اوّل کی زندہ جاوید یادگار ہے۔جو حضرت خلیفہ اول کے منشاء مبارک کے ماتحت حضرت میر صاحب موصوف کی شبانہ روز کوششوں اور جدو جہد سے تعمیر ہوا۔یہی وجہ ہے کہ ابتدائی ایام میں اسے ”نور ہسپتال کی بجائے ناصر وارڈ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ہسپتال کی تعمیر کے لئے حضرت میر ناصر نواب صاحب نے قادیان اور مضافات کی آبادی سے بلا لحاظ مذہب وملت یہاں تک کہ قادیان کے خاکروبوں سے بھی بلا تکلف چندہ لیا۔آپ کے اس اخلاص اور جدو جہد کو سراہتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا: مکرم معظم میر صاحب! آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش اور دل میں تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ جس طرح آپ کے دل میں جوش ہے کہ شفاخانہ زنانہ ،مردانہ مسجد اور دور الضعفاء کے لئے چندہ ہو اور آپ ان میں سچے دل سے کوشش اور سعی فرمارہے ہیں اور بحمد للہ آپ کے اخلاص، صدق و سچائی کا نتیجہ نیک ظاہر ہورہا ہے ان کاموں میں آپ کے ساتھ والے قابل شکر گزاری سے پُر جوش ہیں ہمارے اور تمام کاموں میں سعی کرنے والے ایسے ہی پیدا ہوں و ما ذالک علی اللہ عزیز۔( دستخط ) (حیات ناصر ) اگر چہ نور ہسپتال سے قبل حضرت خلیفہ مسیح اول کی ذات بابرکات کی وجہ سے قادیان میں ایک خیراتی ہسپتال جاری تھا جس سے تمام مذاہب و ملل کے مریض استفادہ کرتے تھے لیکن مریضوں کو ہر وقت طبی امداد مہیا نہ ہو سکتی تھی اس لئے نور ہسپتال نے قادیان اور مضافات کے مریضوں کی نہایت قیمتی خدمات سرانجام دیں۔اس ہسپتال کے بانیوں کے خلوص کا اس امر سے پتہ چلتا ہے کہ نور ہسپتال تقسیم ملک کے عظیم دھکا سے متاثر ہوئے بغیر مسلسل و متواتر قوم کی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ہاں تقسیم سے قبل اس ہسپتال کی سرپرست و نتظم صدر انجمن احمد یہ تھی اور تقسیم کے بعد گورنمنٹ کی نگرانی میں کام ہورہا (128)