قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 122 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 122

قدرت ثانیہ کا دور اول عمارات سلسلہ میں ترقی مذہبی جماعتوں کے ابتدائی ایام سراسر دعوت و اصلاح میں صرف ہوتے ہیں تا کہ وہ بیچ جو دلوں کی سرزمین میں بویا جا رہا ہے جڑ پکڑ لے۔اس لئے عمارتوں کی تعمیر اور دیگر اس قسم کے ثانوی حیثیت کے کام دعوت الی اللہ کی کوششوں کے بار آور ہونے کے بعد کئے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی کی توسیع و مرمت خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کے ابتدائی دور یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے عہد میں تمام کوششیں اشاعت اسلام کے لئے وقف رہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابتدائی دور میں تعمیر کے کام کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے بلکہ کسی حد تک مکانات کی تعمیر ( قومی اغراض کے لئے ) ضروری اور لابدی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانے میں ”الدار کے مختلف حصوں کو مہمان خانہ ہنگر خانہ اور کتب خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جب کوئی مزید ضرورت پیش آتی تو ” الدار میں ہی گنجائش پیدا کی جاتی۔چنانچہ طاعون کی وبا پھوٹنے پر حضرت مسیح موعود نے الدار‘ کو وسیع کرنے کے لئے کشتی نوح کے ساتھ ایک اعلان شائع فرمایا تھا۔پھر جوں جوں ضروریات بڑھنے لگیں مکانات کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول کے عہد سعادت میں بعض عظیم الشان قومی عمارات تیار ہوئیں جو روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ مرکز سلسلہ کی ظاہری شان و شوکت کا باعث بنیں۔مثلاً : توسیع مسجد اقصی۔مسجد اقصیٰ قادیان کی قدیم ترین چار مساجد (مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ ، مسجد آرائیاں مسجد شیخاں ) میں سے ایک مسجد ہے جس کو حضرت اقدس مسیح موعود کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی رئیس قادیان نے اپنی عمر کے آخری ایام میں بنوایا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس مسجد میں سانہ سکتی تھی لہذا اس بات کی شدت سے ضرورت (122)