قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 103 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 103

قدرت ثانیہ کا دور اوّل لارڈ کرزن نے اکتوبر 1905ء میں بعض سیاسی مصالح کی خاطر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جس پر ہندو بنگالیوں نے خصوصاً اور تمام باشندگان صوبہ نے عموماً بہت بُرا منایا لیکن باوجود ہر قسم کے احتجاج کے اس کو قائم رکھا گیا۔12 دسمبر 1911 کو جارج پنجم نے لندن سے آکر تقسیم بنگال کی منسوخی کا اعلان کیا اور برٹش حکومت کا پایہ تخت دہلی منتقل کر دیا۔١ ٧ - غلبت الروم فى ادنى الا رْضِ وَ هُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمُ سَيَغْلِبُون في بضع سنين ترجمہ:۔رومی قریب کی زمین میں مغلوب ہو گئے اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد ہی غالب ہوجائیں گے۔ترک اس زمین میں جو ان سے ملحق ہے مغلوب ہوں گے اور پھر چند سالوں میں اپنے دشمن پر غالب آویں گے۔اس پیشگوئی کے دونوں حصے پورے ہوئے۔جنگ بلقان میں ترکی کو شکست ہوئی پھر مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترک شاہراہ ترقی پر گامزن ہوئے۔22 جولائی 1913 کو ترکوں کی فوج فاتحانہ شان سے اڈریا نوپل میں داخل ہوئی۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں ( تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ 114) چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق ترکی میں ایک خونی انقلاب آیا جس کے نتیجہ میں سلطان عبد الحمید خان معزول کر دئے گئے۔(تشخیز الاذہان مئی 1909 ) ||V - حضرت مسیح موعود کا کشف کہ ”مولوی نور الدین صاحب گھوڑے پر سوار ہوئے ہیں اور گر گئے ہیں۔(تذکرہ صفحہ 671) 18 نومبر 1910ء کو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی سے شہر کو آتے ہوئے حضرت قاضی امیر حسین اور حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکانات کے سامنے گر کر پورا ہوا جس میں (103)