قسمت کے ثمار — Page 95
ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ افریقہ کے مخلص اور فدائی احمد یوں نے اپنے جذبہ ایمانی لہلہی خلوص ومحبت کے بے ساختہ اظہار حسن انتظام اور مثالی نظم وضبط کے دلر بانظاروں سے اپنے پیارے امام ایدہ اللہ کو کس قدر روحانی مسرت پہنچائی اور آپ ایدہ اللہ کی بے پناہ محبت اور آپ کے دل سے اٹھنے والی مستجاب دعاؤں سے حصہ پایا۔اور کس طرح انہوں نے آپ کے خطبات و خطابات، زندگی بخش کلمات ،شرف مصافحہ وزیارت اور پیار ہی پیار اور دعا ہی دعا بن کر پڑنے والی اپنے مسیحا صفت امام کی نظروں سے اپنے قلب وروح کو معطر اور شادمان کیا۔للہی محبت کے ایسے دلکش نظارے صرف زندہ الہی جماعتوں میں ہی مل سکتے ہیں۔ایسی خالص محبت جس میں دنیا کی کوئی ملونی نہیں ہوتی ، ہر قسم کی دنیوی حرص اور طمع سے منزہ ، بے ریا ، سچی ،صاف اور پاکیزہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا سب سے عظیم نمونہ آنحضرت سالیا ایلیم کو عطا فرمایا اور اس بے نظیر للہی محبت کو آپ اسی ایلام کی صداقت کے ایک زندہ اور کھلے کھلے نشان کے طور پر پیش فرمایا۔چنا نچہ فرمایا اگر تو زمین کے تمام خزانے بھی خرچ کر ڈالتا تو بھی ایسی محبت ان کے دلوں میں پیدا نہ کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں یہ محبت پیدا کی ہے۔چنانچہ آج آنحضرت سالی ایم کے موعود امام مہدی علیہ السلام کی جماعت میں اپنے مقدس روحانی امام حضرت خلیفہ اسیح سے غیر معمولی محبت کے جو نظارے دیکھنے میں آتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی خاص عطا ہے اور آنحضرت سلایا کہ تم ہی کا فیض ہے جو اس زمانے میں مسیح محمدی کے ذریعہ پھر سے دنیا میں جاری ہوا ہے۔اور جیسا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے فرمایا یہ باتیں احمدیت کی سچائی کی دلیل ہیں۔بلاشبہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔جماعت کی حیثیت اگر بدن کی ہے تو خلیفہ وقت اس میں دل کی حیثیت رکھتا ہے۔اے اللہ تو ہمیشہ اپنی اس جماعت کو اپنی محبتوں سے نو از تارہ اور خلیفہ وقت اور جماعت کی محبت کا یہ دوطرفہ تعلق تیری محبت اور رضا کے تابع اور تیرے فضلوں اور احسانات سے معمور ہمیشہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتار ہے اور کسی شیطان کو اس 95