قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 91 of 365

قسمت کے ثمار — Page 91

سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی زیارت کے شوق میں قادیان کا پتہ دریافت کرتے تو انہیں اس سلسلہ میں کافی مشکل پیش آتی۔یہاں تک کہ قادیان سے گیارہ میل کے فاصلہ پر بٹالہ نامی ریلوے سٹیشن پر پہنچ کر بھی قادیان کا رستہ معلوم کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔قادیان پہنچنے کے لئے کوئی پختہ سڑک یا معقول سواری بھی نہ تھی۔ان مشکلات پر اس مخالفت نے اور اضافہ کر دیا جو ہمیشہ ہی سچے مامور کی ہوتی آئی ہے۔چنانچہ یہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے بٹالہ کے ایک مولوی صاحب جنہیں یہ خیال تھا کہ اس علاقہ میں ان کی مدد کے بغیر کوئی اہم مذہبی کام سرانجام نہیں پاسکتا اور جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کی مخالفت کی وجہ سے احمدیت قادیان سے باہر نہیں نکل سکے گی ، ایک عرصہ تک اس مہم میں لگے رہے کہ قادیان جانے والوں کو بٹالہ سٹیشن پر ہی بد دل کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کا یہ دعویٰ کہ وہ ہندوؤں کے اوتار ہیں، سرمایہ دار ہندو قوم کی مخالفت کے لئے کافی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحقیق که حضرت بابا نانک دایملی ایک صوفی منش خدارسیدہ مسلمان تھے، اس علاقہ میں سکھوں کو غضبناک کرنے کے لئے کافی تھی۔مسلمان تو پہلے ہی حضرت عیسی مالی نام کی وفات کے اعلان سے آتش زیر پا ہو چکے تھے۔ان مخالف حالات میں زمین کے کناروں تک شہرت کی بات اور بھی عجیب اور نا قابل یقین ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے کام عجیب ہوتے ہیں۔دنیا دار آدمی کے لئے ان کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا مگر حقیقت یہی ہے۔جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے سچائی کی کونپل آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔مخالفت کی آندھیوں کی شدت کے باوجود یہ زندگی کی توانائیاں اور رونقیں حاصل کرتی چلی گئی۔قادیان میں مشکلات پیدا ہوئیں تو آسمان روحانیت کے بلند پرواز پرندے ربوہ میں جمع ہو گئے اور تبلیغ واشاعت اسلام کا کام پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانہ پر شروع ہو گیا اور مخالفت کی اس کھاد سے سچائی کی نوخیز نازک کو نیل ایک ایسے خوش نما درخت 91