قسمت کے ثمار — Page 77
محبت سب دکھوں اور تکلیفوں اور جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج ہے۔“ اس بنیادی مقصد کے حصول کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے مطابق حضرت مسیح موعود علی شام نے ایک جماعت قائم کی۔خدا کے بندوں کو اس کی طرف بلایا اور جمع کیا تا وہ اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار بندے بن جائیں۔ہم لوگ بھی اس کی جماعت میں اسی لئے داخل ہوئے ہیں کہ ہم خدا کے خدمت گزار بندوں میں شامل ہوں۔لیکن اس خدمت گزاری کیلئے کچھ شرائط ہیں۔اگر وہ شرائط پوری نہ کی جائیں اور ان پر نہ چلا جائے تو پھر صرف خدمت گزار کہلانے سے تو کچھ فائدہ نہیں حاصل ہوگا۔جب تک ان شرائط کو پورا نہ کیا جائے تب تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔دیکھو سکول میں داخل ہونے سے ایک شخص طالب علم تو کہلا سکے گا لیکن اگر وہ داخل ہونے کی غرض کو مد نظر نہ رکھے گا اور علم کے حصول کی کوشش نہ کرے گا تو اسے صرف طالب علم کہلانے سے اور سکول میں داخل ہو جانے سے علم نہیں حاصل ہو جائے گا اور نہ وہ عالم کہلائے گا۔بہت سے لڑکے ہوتے ہیں جو کہلاتے تو طالب علم ہیں لیکن سارا وقت بجائے علم کے حصول کے جہالت کے حصول میں خرچ کر دیتے ہیں۔کیا وہ صرف طالب علم کہلانے یا سکول میں داخل ہونے سے عالم کہلانے کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔اسی طرح ہم بھی ایک مدرسہ میں داخل ہوئے ہیں جس میں داخل ہونے کی غرض محض یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار غلام بن جائیں اور اس کا قرب حاصل ہو۔مگر صرف اس مدرسہ میں ہمارا داخل ہونا ہمیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔جب تک ہماری کوششیں اس غرض کے حصول کیلئے انتہائی نقطہ پر نہ پہنچ جائیں اور جب تک ہم پورے طور پر جد و جہد نہ کریں تب تک ہم سچے طور پر خدا کے غلام کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔“ (الفضل 22 فروری 1927 ء ) 77