قسمت کے ثمار — Page 59
حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ برصغیر ہندو پاک کے دیہاتوں میں قریباً ہر جگہ ہی مساجد احمدیوں اور دوسرے شرفاء کی مشترکہ عبادت گاہیں تھیں۔جہاں یکے بعد دیگرے خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی تھی اور اس وجہ سے کبھی کوئی دنگا فسادنہ ہوا تھا مگر امن وسکون کی اس فضا کو برباد کر کے غالباً یہ سمجھا گیا کہ اس طرح احمدی مساجد اور عبادت سے محروم ہو جائیں گے۔مگر اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ہمارے سامنے ہے۔احمدیوں نے پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں مساجد تعمیر و آباد کرنا شروع کر دیں۔اگر لندن میں سب سے پہلی مسجد احمدیوں کی چھوٹی سی غریب جماعت نے بنائی تھی تو اب یورپ کی سب سے وسیع اور کشادہ مسجد بنانے کی بھی انہیں ہی توفیق ملی۔اور یہ عمل دنیا کے تمام براعظموں میں بڑی عمدگی سے جاری ہے۔اگر پاکستان میں کسی نے اپنی سخت دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد کو گرانے اور اسے بے آباد کرنے کی جسارت کی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں نے اس کے بدلے میں درجنوں مساجد تعمیر و آبادکر کے اپنے ایمان کا ثبوت دے دیا۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کا اجارہ دار سمجھتے ہوئے محض تحکم و زیادتی سے احمدیوں کو مسجدوں سے الگ اور محروم کرنے کی کوشش کی تھی آج ان کی مساجد میں نمازی عبادت کیلئے جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں کیونکہ امن وسکون کو برباد کرنے والی ان کی حرکات سے جن کا نشانہ احمدی بنتے تھے اب یہ صورت پیدا ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خوفناک اقدامات سے مسجدیں نمازیوں کے خون سے سرخ ہورہی ہیں۔سب سے زیادہ حفاظت کی ضرورت عبادت گاہوں میں محسوس ہورہی ہے مگر ان احتیاطی کوششوں کے باوجود امن وسکون کی کوئی صورت نظر نہیں آتی بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہر کوشش کے بعد قتل وغارت اور خونریزی پہلے سے بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔خدا تعالیٰ امن اور اسلامی روایات کو تباہ کرنے والے لوگوں کو سمجھ عطا فرما دے۔مساجد میں امن وسکون کی حالت واپس آوے۔اسلامی اخوت و بھائی چارہ کی فضا پیدا ہو۔دہشت گردی کا بھیانک دیو، احمدی مسلمانوں کی بہیمانہ مخالفت کے سوراخ سے نکلا تھا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ 59