قسمت کے ثمار — Page 50
إِلَّا وُسْعَهَا کے الہی فرمان کی ایک زندہ اور مجسم تفسیر بن گئے۔(سوانح فضل عمر “ جلد دوم صفحہ 27-26 ) حضرت مصلح موعود باشیم کی مصروفیات کے متعلق حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان بنی احمد مرحوم نے ایک بڑا دلچسپ اور پیارا واقعہ بیان فرمایا ہے جس سے حضور بنی الیون کی سیرت کے اور بھی کئی دلکش پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ڈیوک آف ونڈسر جو اس وقت پرنس آف ویلز اور تخت برطانیہ کے وارث تھے جس پر وہ کبھی براجمان نہ ہو سکے کیونکہ ایڈورڈ ہشتم کی حیثیت میں وہ رسم تخت نشینی سے قبل ہی دستبردار ہو گئے۔وہ 1922ء میں ہندوستان تشریف لائے۔لاہور میں ان کے قیام کے دوران حضرت خلیفہ المسی الثانی العین اور جماعت کی طرف سے ان کی خدمت میں ایک کتاب تحفہ کے طور پر پیش کی گئی۔جس کا نام ”تحفہ شہزادہ ویلیز تھا۔اس کتاب میں آپ نے تعلیمات اسلامی کی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی حیثیت میں نہایت واضح اور مدلل تشریح فرمائی تھی نیز اس کے آخر میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔اصل کتاب حضرت صاحب نے اردو میں رقم فرمائی اور مسودہ کی ایک نقل مجھے لاہور ان ہدایات کے ساتھ ارسال فرمائی کہ میں اس کا جس قدر بھی جلد ممکن ہو سکے انگریزی میں ترجمہ کروں اور پھر ترجمہ کو نظر ثانی کیلئے قادیان لے جاؤں۔میں نے پانچ دنوں میں اس ترجمہ کو مکمل کر لیا اور اسے لے کر قادیان چلا گیا۔وہاں دو دن اس کی نظر ثانی پر صرف کئے گئے۔نظر ثانی کرنے والے احباب کا بورڈ خود حضرت صاحب بینی الشحن ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد بنلی شد مرحوم مولوی شیر علی بنی امت مرحوم اور ہمارے معزز بھائی مولوی محمد دین بنایا وہ صاحب پر مشتمل تھا۔ہم روزانہ نماز فجر کے بعد جب کہ ابھی سورج نمودار ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہوتا ہے کام شروع کر دیتے تھے۔اور نماز 50