قسمت کے ثمار — Page 348
کرایا۔خاکسار کو 1944ء میں زندگی وقف کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اس میں حضرت مصلح موعود بنی ان کے مؤثر خطبات اور دل نشین تحریکات کا اثر تو لازماً رہا ہوگا تھا۔اس کے ساتھ بزرگ والدین کی یہ خواہش کہ ان کے بچے دین کے خادم بنیں، کا بھی دخل رہا۔سب سے بڑھ کر میری والدہ مرحومہ کی لوری ” میرا بچہ اذا نہیں دے گا لوگوں کو کلمہ پڑھائے گا، ماں کے دودھ سے دین سے وابستگی رگ رگ میں سرایت کر گئی تھی۔تھے۔قادیان میں مدرسہ احمدیہ میں داخلہ ہوا۔میری پہلی کلاس میں ساٹھ سے زیادہ طالب علم تقسیم برصغیر کے وقت انتہائی پر آشوب اور غیر یقینی حالات در پیش تھے۔جماعتی ہدایت کے مطابق پہلے مستورات اور بچوں کو پاکستان بھیجوانے کا فیصلہ ہوا۔ابا جان نے محلہ کے ایک سابق فوجی سے ان کے ٹرک میں امی جان اور بچوں کو بھجوانے کی بمشکل اجازت لی جب قادیان سے لڑکوں کا قافلہ چلنے لگا تو ڈرائیور کے پیچھے ایک چھوٹی سی جگہ پر مجھے بھی ٹکا دیا۔اپنے خاندان کو بے سروسامانی میں رخصت کر دیا اور خود قادیان کے درویش ہو گئے۔تقسیم وطن اور مہاجرت سے پیدا ہونے والے اثرات و مشکلات سے قادیان کے منتشر پرندے جمع ہونے لگے تو جامعہ میں کلاس میں صرف پندرہ سولہ طالب علم تھے (اگر ان طالب علموں اور وقف زندگی کرنے کے بعد حالات کی مجبوری سے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع نہ کر سکنے والوں کے حالات جمع ہوسکیں تو یقینا اس میں بھی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات ملیں گے )۔لاہور میں رتن باغ اور جودھامل بلڈنگ ( میوہسپتال کے نزدیک ) حضور کی رہائش اور صدر انجمن کے دفاتر کے قیام سے ایک مرکز کی صورت بن گئی مگر بہت ہی کسمپرسی کی صورت تھی۔دفاتر کی عمارات ، دفاتر کا فرنیچر دفاتر کے کارکن کوئی چیز بھی تو عام حالات کے مطابق معیاری اور مکمل نہ 348