قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 347 of 365

قسمت کے ثمار — Page 347

سنایا گیا۔اب پھر بچپن کی طرف دیکھتے ہیں۔بچپن کے کھیلوں میں کبڈی ، ہاکی ،فٹ بال اور میروڈ بہ عام تھے۔بھائیجان بہت پر جوش کھلاڑی تھے۔ٹیمیں بناتے ، بیچ ڈالتے دوسرے محلوں کی ٹیموں سے ٹورنامنٹ ہوتے۔علمی پروگراموں میں بھی پیش پیش رہتے۔طبیعت میں جوش کی وجہ سے آگے آگے رہنے کا شوق تھا۔آواز بلند اور لحن اچھا تھا۔۱۹۳۹ ء میں صرف نو سال کی عمر میں تحریکِ جدید کے جلسے میں تقریر کر کے انعام حاصل کیا۔ہم دار الفتوح کی مسجد میں اطفال کے پروگراموں میں اذان ، نظم اور تقریر کے مقابلوں میں شریک ہوتے۔ایک دفعہ محلے کے جلسے میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل معنی اللہ کی مشہورِ زمانہ نعت: بدرگاه ذی شان خیر الانام بہت خوش الحانی سے پڑھی جس پر محلے کے صدر صاحب نے ہم دونوں بھائیوں کو انعام دیا۔اجتماعات میں علمی مقابلوں میں انعامات حاصل کرتے مطالعہ کتب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام علیہ السلام کا خاص اہتمام کرتے اور ان کے امتحانات میں شرکت کرتے۔مجھے یاد ہے جب ابا جان کو احباب مبارکباد دیتے تھے تو وہ بہت خوش ہوتے تھے۔دراصل جلسوں میں با قاعدگی سے حصہ لینے میں ابا جان کے ذوق و شوق کا بہت عمل دخل تھا۔ان کی غیر معمولی دلچسپی کی وجہ سے ہمیں بعض تاریخی جلسوں میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی جس پر آج ہم بجاطور پر شکر اور فخر کرتے ہیں۔۱۹۴۴ء میں لاہو، ہوشیار پور، لدھیانہ اور دہلی میں جلسہ ہائے مصلح موعود ہوئے۔لدھیانہ میں بچوں کو لانے کی اجازت نہ تھی۔باقی سب جلسوں میں ابا جان ہم دونوں بھائیوں کو ساتھ لے کر گئے اس کے علاوہ قادیان کے پاس ایک گاؤں بھانبڑی میں بھی ہم ایک تاریخی جلسے میں گئے تھے۔اباجان قادیان کے متمول تاجر تھے متعدد بارا پنا یہ ارادہ ظاہر فرماتے کہ اپنے خرچ پر بچوں کو اعلی تعلیم دلوا کر سلسلہ کے لئے وقف کر دینگے۔آپ نے دونوں بھائیوں کو جامعہ احمدیہ میں داخل 347