قسمت کے ثمار — Page 340
شوق۔سیر چشمی۔بلند حوصلگی اطاعت امام اور دوسری متعدد نمایاں خوبیوں اور صفات کا ذکر ہے اس سلسلہ میں مکرم مولوی محمد یا ر عارف صاحب کا ایک فقرہ بہت پیارا لگ رہا ہے وہ لکھتے ہیں: مکرم جناب ایڈیٹر صاحب ہفت روزہ لاہور نے لکھا ہے کہ ان کی تقریر شروع سے آخر تک یوں ہوتی تھی جیسے ریکارڈ پر سوئی لگادی گئی ہو اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد سوئی ہٹائی گئی ہو۔مجھے تو ان کی ساری زندگی ہی اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی ان کی زندگی کی سوئی خدمت احمدیت کے ریکارڈ پر لگا دی گئی اور جب ان کی موت آئی تو گویا وہ سوئی ہٹائی گئی۔“ مربی سلسلہ برادرم محمد افضل ظفر صاحب کی یہ قابل قدر پونے تین صد صفحات کی دلچسپ کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تو بہت سی باتیں باقی ہیں۔اور یہ بھی کہ جیسے ظفر صاحب نے حضرت مولانا صاحب کے ہزاروں شاگردوں اور ان کی محبت و عقیدت کا دم بھرنے والوں کو چینج کیا ہو۔روزنامه الفضل ربوہ 22 ستمبر 1996ء) 340