قسمت کے ثمار — Page 316
پرسه کھانے کی تیاری سے بہت کم ہے۔دس میں سے ایک آدمی کھانا تیار کرتا ہے ورنہ ضرورت سے زیادہ پکایا جاتا اور پھینکا جاتا ہے۔کھانے کی چیزوں کو اندازہ کے مطابق پکانا اور پھر مناسب طریق پر سٹور کرنا بہت سے نقصان سے بچا سکتا ہے۔اس نقصان کی ذمہ داری قریباً ہر شخص پر آتی ہے اس لئے اس کی تلافی کیلئے بھی ہر شخص کو کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہے۔Wrap یعنی West and Resource پروگرام کی تحقیق بھی کم و بیش مندرجہ بالار پورٹ کی تصدیق کرتی ہے۔اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خریدار کم و بیش ہر سال 86 ملین مرغ کوڑا کرکٹ میں پھینک دیتے ہیں۔24 ملین ڈبل روٹی کے ٹکڑے بھی کوڑا دان کی نذر ہو جاتے ہیں۔قریباً چھ ملین دودھ کے گلاس، آلو کی بنی ہوئی چیزیں چھ ملین اور 80 ہزار میٹھی چیزیں بھی اس طرح ضائع ہو جاتی ہیں۔ان کی تحقیق کے مطابق اوسطاً ہر خاندان ایک ہفتہ میں چھ افراد کا کھانا ضائع کرتا ہے۔جس کی قیمت کم و بیش ساڑھے بارہ بلین سالانہ بنتی ہے۔یہ وہ رقم ہے جس سے ایک غریب چھوٹا ملک اپنی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق فریزر میں کھانے کی اشیاء بغیر لیبل لگائے رکھ دی جاتی ہیں جو کچھ عرصہ گزرنے پر کوڑا دان کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس پروگرام کے ماہروں کے اندازے کے مطابق خریدار، صنعت کار اور سرکار کی مشترکہ کوشش سے اس ضیاع میں کافی کمی ہو سکتی ہے۔اس رپورٹ کو پڑھتے وقت فوری طور پر ذہن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ یہاں بالعموم اشیائے صرف کی قیمتیں مستحکم اور کرنسی مضبوط ہوتی ہے تاہم کچھ عرصے سے یہ امر بھی سامنے آرہا ہے کہ پونڈ کی قدر میں کمی آرہی ہے اور اسی طرح قیمتوں میں بھی اضافہ کا رجحان ہے۔اس کے باوجود اسقدر ضیاع حیران کن بلکہ پریشان کن ہے۔علاوہ ازیں امیر ترین لوگوں کی کرہ ارض پر ساڑھے چھ ٹریلین ڈالر کی ملکیت رکھنے والے ارب پتیوں کی تعداد دو ہزار ایک سوستر تک پہنچ چکی ہے۔یہ غریبوں کو زیادہ غریب کرنے اور امیروں کو زیادہ امیر بنانے والے سرمایہ داری نظام کا معجزہ ہے کہ 2009 ء اور 2013 ء چار سالوں میں دنیا کے ارب پتیوں کی تعداد اور مجموعی دولت میں دو گنا اضافہ 316