قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 309 of 365

قسمت کے ثمار — Page 309

الاحمد یہ ربوہ کے قائد (جسے اب مہتم مقامی کہا جاتا ہے) کے طور پر بھی خدمات بجالاتے رہے۔مختلف بیرونی ممالک میں دینی خدمات سرانجام دیں اس سلسلہ میں قید و بند کی صعوبت بھی خندہ پیشانی سے برداشت کی۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے برادرم ذبیح صاحب خاکسار کے ہم جماعت تھے۔مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں ہم اکٹھے رہے۔اس کے بعد خدمت کے میدان میں ایک لمبا عرصہ باہم ملنے کا موقع نہ ملا۔کم و بیش تیس سال کے بعد خاکسار نے زیمبیا سے واپسی پر انہیں چارج دیا اور اس وقت کوئی ایک ماہ کے قریب ہم ایک ہی جگہ اکٹھے رہے۔اب وہ خوب تجربہ کار اور جہاندیدہ ہو چکے تھے۔تاہم خاکسار اس بات سے بہت لطف اندوز ہوتا رہا کہ ماہ وسال کی گردش ان کی سادگی اور بچوں کی سی معصومیت کو ختم نہ کر سکی تھی۔وہ اب بھی اسی طرح بھولے بھالے مگر خدمت دین کیلئے پر جوش تھے جس طرح مدرسہ احمدیہ کے زمانہ میں ہوتے تھے۔زیمبیا سے کامیاب واپسی پر انہیں نائب ناظر مال کی خدمات تفویض ہو ئیں۔اس بات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ مقبول بھائی کی خدمات مقبول تھیں۔ہمارے پیارے امام ان کے اخلاص و جذبہ خدمت کے بہت مداح تھے۔خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را 309 (روزنامه الفضل ربوہ 16 فروری 1997ء)