قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 305 of 365

قسمت کے ثمار — Page 305

جدا ہو گیا یعنی حضرت مولوی محمد دین صاحب بنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1907ء میں پہلی مرتبہ وقف زندگی کی تحریک فرمائی یعنی لوگوں کو اس طرف بلایا کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیں اور دین کی نصرت کیلئے حاضر ہو جائیں۔چنانچہ وہ تیرہ خوش نصیب جنہوں نے اس پہلی آواز پر لبیک کہا تھا ان میں ایک حضرت مولوی محمد دین صاحب بنی وہ بھی تھے۔انہوں نے بڑی وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھایا۔1923ء میں آپ کو تبلیغ کے لئے امریکہ بھجوایا گیا جہاں آپ 1925ء تک بڑی کامیابی کے ساتھ تبلیغی فرائض سرانجام دیتے اور دعوت الی اللہ کا حق ادا کرتے رہے۔لیکن ان دو تین سالوں کا کیا ذکر ، آپ تمام عمر ایک نہایت ہی پاک نفس درویش صفت انسان کے طور پر زندہ رہے۔کوئی انانیت نہیں تھی۔کوئی تکبر نہیں تھا۔ایسا بچھا ہوا وجود تھا جو خدا کی راہوں میں کچھ کر چلتا ہے۔ذکر الہی سے ہمیشہ آپ کی زبان تر رہتی تھی۔آخری سانس تک آپ داعی الی اللہ بنے رہے۔بظاہر بستر پر پڑا ہوا ایک ایسا وجود تھا جو دنیا کی نگاہوں میں ناکارہ ہو چکا تھا مگر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا جب میں سپین سے واپس آیا اور حضرت مولوی صاحب یکیشن کی خدمت میں ملاقات کیلئے حاضر ہوا۔تو پہلی بات انہوں نے مجھے یہی کہی کہ میں سپین کے مشن کی کامیابی کے لئے اور آپ کے دورہ کی کامیابی کیلئے مسلسل دعائیں کرتا رہا ہوں۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ کی دعائیں مجھے پہنچتی رہی ہیں اور میں ان کو خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضلوں کی صورت میں آسمان سے برستا ہوا دیکھا کرتا تھا اور کون جانتا ہے کہ کتنا بڑا حصہ حضرت مولوی صاحب بنی عنہ کا تھا اس کامیابی میں جو اس سفر کو نصیب ہوئی۔پس داعی الی اللہ تو وہ ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ عہد کرتا ہے تو پھر عمر بھر اس عہد کو کامل وفا کے ساتھ نبھاتا بھی ہے اور آخری سانس تک داعی الی اللہ بنا رہتا ہے۔پس 305