قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 290 of 365

قسمت کے ثمار — Page 290

ہیں مگر گھر کے کاموں کو اس طرح سرانجام دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے شوہر کو بھی اس کا علم نہ ہو مبادا وہ پریشان و فکر مند ہو کر اپنا کام وقت پر پورا نہ کر سکیں یا اس میں کوئی کمی رہ جائے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے میاں بیوی میں مکمل ہم آہنگی اور باہم محبت تھی ہمارے گھروں میں ان کے پیارو محبت سے رہنے کو بطور مثال اور نمونہ پیش کیا جاتا تھا۔اکثر دونوں ہی اکٹھے دیکھنے میں آتے تھے۔برادرم سیفی صاحب کی زندگی میں تو کام ہی کام ہے انہیں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ وہ گھر میں کام کر رہے ہیں یا دفتر میں کیونکہ ان کا گھر بھی ان کے دفتر کی طرح ہی ہوتا ہے چاروں طرف کتب و کاغذات بکھرے ہوئے اور وہ لکھنے پڑھنے میں مصروف ایسے میں تھوڑا وقفہ کر کے کسی کے ہاں جانے پر آمادہ کرنا اور دونوں کا اکٹھے جانا بھی اسی مقصد سے ہوتا تھا کہ مسلسل بیٹھے رہنے سے طبیعت خراب ہو کر سلسلہ کے کام میں رکاوٹ پیدا نہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لمبے عرصہ تک اپنے حلقہ کی صدر لجنہ کے طور پر خدمت بجالانے کی توفیق عطا فرمائی اسی طرح بچوں کو قرآن مجید پڑھانے کا بھی لمبا عرصہ اہتمام کیا اور اس وجہ سے آپ سے ملنے والوں اور استفادہ کرنے والوں کا دائرہ بہت وسیع تھا۔یہ بات پورے یقین اور وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ نے کبھی کسی کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے محلہ کے لوگ اور عزیز واقارب آپ کی خوش خلقی کی وجہ سے آپ سے عزت واحترام کا سلوک ہی کرتے تھے۔برادرم سیفی صاحب ایک لمبا عرصہ خدمات دینیہ کے سلسلہ میں بیرون ممالک اکیلے ہی رہے اس سارے عرصہ میں بڑے صبر وقتل اور بردباری کے ساتھ آپ اپنے بچوں کی پرورش و تربیت میں مصروف رہیں۔آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی پانچوں ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے اعلیٰ تعلیم اور حسن اخلاق سے مزین ہونے کی وجہ سے عملاً اس امر کے گواہ اور ثبوت ہیں کہ ان کی عظیم والدہ نے ان کی تربیت کا حق ادا کر دیا۔چند سال آپ کو بھی خدمت کے میدان میں بیرون ملک نائیجیر یا میں رہنے کا موقع ملا۔اس زمانہ میں وہاں ہمارے جتنے بھی مربی تھے وہ سب اس ہمدرد 290