قسمت کے ثمار — Page 277
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی خوش قسمت انسان کو نصف صدی سے زیادہ اسلام اور قرآن مجید کی خدمت کی قابل رشک توفیق عنایت فرما دے تو یقیناً یہ اس انسان کی عظمت کی ایک دلیل ہے۔میرے بزرگ استاد حضرت مولانا ابوالمنیر نورالحق نے یہ سعادت حاصل کی اور 1940 ء سے کلام الہی کی خدمت کی توفیق پائی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ہی ہو، جسے اولو العزم اور مسلسل ان تھک جد و جہد کرنے والے رہنما کے ساتھ اس طرح کام کی سعادت حاصل کی کہ حضور بنی ہون نے متعدد مرتبہ آپ کے کام کی تعریف فرمائی۔تفسیر کبیر کے سلسلہ میں حضرت صاحب نے جس توجہ اور محنت سے دن رات کام کیا اس کا ایک عام آدمی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔مسودہ کی نقل و ترتیب اور پروف ریڈ نگ وغیرہ کے مراحل میں بڑی دلجمعی و محنت سے کام کیا۔حضرت صاحب نے ایک موقع پر فرمایا کہ خدمت کلام الہی میں میرے ساتھ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلال پوری (حضرت مولا نا محمد جلیل صاحب کے والد گرامی ) جو بہت بڑے عالم تھے کام کیا کرتے تھے ان کی وفات کے بعد مولوی نور الحق صاحب کو یہ کام دیا گیا با وجود اس کے کہ وہ نوجوان ہیں۔ان کو یہ توفیق ملی وہ میرے منشاء کو سمجھ کر اس کے مطابق کام کرتے رہے۔اسی کام کی تکمیل پر حضرت صاحب نے اظہار خوشنودی اور حوصلہ افزائی کے طور پر استاد محترم کو ایک قیمتی خوبصورت چوغہ بطور انعام مرحمت فرمایا۔277