قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 274 of 365

قسمت کے ثمار — Page 274

مطابق کوئی انتظام نہ ہو سکتا تھا۔عرب سردار نے کوئی اور انتظام نہ ہوتے دیکھ کر اپنے عزیز از جان گھوڑے کو ذبح کروا کے اپنی مہمان نوازی کی روایت کو قائم رکھا۔صبح جب مہمانوں سے ان کی آمد کا مقصد معلوم کیا گیا تو سردار کو بہت افسوس ہوا اور اس نے کہا کہ کاش آپ لوگ آتے ہی اپنے مقصد سے مطلع کر دیتے کیونکہ میں نے تو وہی گھوڑا جو یقیناً مجھے بہت ہی عزیز تھا آپ کی خاطر مدارات کیلئے پہلے ہی استعمال کر لیا ہے۔قرآن مجید نے عربوں کی اس روایتی خوبی اور حسن کو چار چاند لگا دیئے۔حضور صلی ہنم کا اپنا اسوہ حسنہ مہمان نوازی کی روایات کو آگے بڑھانے کا سبب بنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خلق عظیم کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے ایک پرانی کہانی کا سہارالیا اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالی عنھا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک مسافر کو رات آگئی وہ بھوکا تو تھا ہی مگر کھانے کو کچھ نہ پا کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آگ جلا کر سینکنے لگا۔اس درخت پر پرندوں کا گھونسلہ تھا۔ان پرندوں نے ایک بھوکے مسافر کو درخت کے نیچے تھکا ہارا بیٹھا دیکھا تو آپس میں مشورہ کر کے اس مہمان کی مہمان نوازی کیلئے خود کو آگ میں گرا دیا اور مہمان نے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے اپنی بھوک دور کر لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جو خوش نصیب آپ کی زیارت و ملاقات سے شرفیاب ہوتے تھے وہ اپنی اپنی طبیعت کے مطابق آپ کی کسی خوبی یا خصوصیت سے متاثر ہوتے مگر ایک بات جو سب زائرین یقینی اور واضح طور پر محسوس کرتے وہ آپ کی کمال مہمان نوازی تھی۔مہمان کی آمد پر حسب موقع وضرورت اپنی چار پائی ، اپنا بستر ، اپنا کھانا مہمان کو کھلا دینا آپ کا پسندیدہ طریق تھا۔بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مہمان چار پائی اور بستر پر آرام کر رہے ہیں اور آپ نیچے چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔یہی نہیں بعض ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ مہمان آرام کر رہے ہیں اور آپ پاس بیٹھے پنکھا کر رہے ہیں مبادا کہ مہمان کے آرام میں گرمی یا مچھر دیکھی کی 274