قسمت کے ثمار — Page 270
مہمانی کو اپنے لئے وجہ مسرت بلکہ وجہ افتخار سمجھتا رہا۔اسی چوک نے یہ نظارے بھی چشم حیراں سے دیکھے کہ مجھے غریب دلہن کی طرح کیوں سجایا جا رہا ہے؟ کہیں کسی دیوار پر تھوڑی سی چونے کی سفیدی ہوگئی۔ڈٹمپر اور پینٹ وغیرہ کا زمانہ تو اب بہت بعد میں آیا ہے۔اس سفیدی کی نوبت بھی نہ آسکی اور ویسے ہی صفائی اور جھاڑ پونچھ ہوگئی اور سمجھا گیا کہ جلسہ سالانہ کی تیاری ہوگئی ہے۔احمد یہ چوک کے دوکاندار اور باسی یقیناً سارا سال بڑے اشتیاق سے جلسہ سالانہ کی آمد کا انتظار تو ضرور کرتے تھے۔مگر اس انتظار میں وہ خوش نصیب دیہاتی بھی شامل ہوتے تھے جن کو جلسہ سالانہ میں شدید سردی کے موسم میں ایسے مہمانوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوتا تھا ، جو محض خدا کی خاطر انتہائی مشکل و پر مشقت سفر گھوڑوں، گڑوں وغیرہ پر اپنے اہل وعیال کے ساتھ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے مئے عرفان کی تلاش میں گھروں سے نکلے ہوئے ہوتے تھے۔گھوڑوں اور گڑوں پر سفر کرنے والے تو پھر بھی کسی قدر سہولت سے منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہوں گے ان عشاق کی بھی کمی نہیں تھی جو اس قدر سہولت کے بھی متحمل نہ ہو سکتے اور وہ پا پیادہ ہی گھروں سے چل پڑتے اورے سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے رستہ میں ہر احمدی گاؤں یا ہر احمدی شخص ان کی پذیرائی گھلے بازوؤں اور کشادہ دلی سے کرتا اور باہم دینی باتیں کر کے روحانی و جسمانی غذا اور تقویت حاصل کر کے ایک رات آرام کر کے پھر اپنے مشن پر چل پڑتے۔اے خوشا مہمانی اور اے خوشا میز بانی۔پیدل چلنے والے۔گڈوں، گھوڑوں ، تانگوں پر آنے والے ، گاڑی پر آنے والے اپنی منزل پر پہنچ کر سفر کی مشقتوں اور آسانیوں کو بھول کر جلسہ سالانہ کی برکات سے زیادہ سے زیادہ حصہ پانے کیلئے نیکیوں میں مسابقت کی مہم میں ہمہ تن شب و روز مصروف ہو جاتے۔احمد یہ چوک کے سارے مکان اور دکانیں الدار کا حصہ بلکہ زیادہ صحیح تو یہ ہو گا کہ مسجد مبارک کا حصہ بن جاتے۔عبادت گزار اپنی کثرت کی وجہ سے عبادت کے وقت دور دور تک کوچہ و بازار اور دکانوں مکانوں میں صف بستہ ہو جاتے۔۔۔اس نظارہ کو 270