قسمت کے ثمار — Page 265
عرصہ سعی محبان تا ابد محمد ود ہے" اردو زبان کے تمام مشہور شعراء کے دیوانوں میں عشق و محبت کے موضوع پر بے شمار اشعار ملتے ہیں۔اسی طرح نثر نگار ادیبوں نے بھی ضرور ہی اس موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے۔ان تمام " شہ پاروں میں عشق و محبت کو بے کاری ہستی کاہلی، بے عملی پیدا کرنے کا ایک سبب اور ذریعہ قرار دیا گیا ہے: کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا جب عشق خلل دماغ ٹھہرا تو عاشق سے کسی اچھے تعمیری اور مثبت کام کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی اور اس کے مطابق کام کرنے کی توقع اور امید ہی عبث ہو جاتی ہے۔ایک کامیاب عاشق کا تو طریق عمل یہی ہوگا کہ ؎ دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصویر جاناں کئے ہوئے اس طرح، ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھے رہنے اور بے عملی کے لئے اس کے پاس یہ وجہ جواز بھی موجود ہے کہ ؎ بجا کہ ترک محبت میں ہے سکوں لیکن یہ دل کی بات ہے دل کس کے اختیار میں ہے 265