قسمت کے ثمار — Page 258
میں مصروف ہو گئے۔کچھ عرصہ آپ نے امراؤتی (ہندوستان ) میں بھی بسر کیا جہاں ہماری چچی جان ایک سکول میں معلمہ کے فرائض انجام دیتی تھیں۔امراؤتی سے واپسی پر قادیان میں کاروبار شروع کیا جہاں ترقی کے اچھے مواقع تھے، مگر امام جماعت احمد یہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان کی تحریک پر دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے زندگی وقف کر دی۔آپ کا وقف منظور ہوا اور حضرت صاحب بنا لشحن نے آپ کو بطور تا جر مربی مقررفرمایا۔آپ کچھ عرصہ انگلستان اور لمبا عرصہ غانا میں اس حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔امام جماعت احمد یہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی بلی عنہ نے متعدد مرتبہ آپ کی خدمات کی تعریف فرمائی اور آپ کے کام کو بطور مثال پیش فرمایا۔احمدیت سے لگاؤ اور قلبی تعلق مثالی تھا۔امام جماعت سے محبت وعقیدت آپ کے ہر کام اور بات سے ظاہر ہوتی تھی۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ماٹو آپ کا لائحہ عمل تھا۔ایک دفعہ قربانی کیلئے آپ ایک بکرا خرید کر لائے۔آپ کے ایک عزیز نے آپ کو بتایا کہ اس نے بھی ایک بکرا خریدا ہے جو آپ کے جانور سے بہتر اور سستا ہے۔محترم چچا جان نے متبسم چہرے کے ساتھ جواب دیا کہ ٹھیک ہے۔آپ اچھا بکر استے داموں خرید کر لائے ہیں، مگر میں تو ایک احمدی بھائی سے خرید کر لایا ہوں یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اور آپ کی زندگی میں وضعداری اور با اصول ہونے کی ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔اپنے محلہ میں ایک لمبے عرصہ تک تدریس و امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔وقت کی پابندی اور وفاداری یہاں بھی نمایاں تھی۔اہل محلہ بہت عزت کرتے اور چھوٹے بڑے آپ کی بات کو توجہ سے سنتے یہی وجہ ہے کہ بہت سے جھگڑے اور غلط فہمیاں آپ کے دخل اور توجہ سے دور ہوئیں کیونکہ محلے والے خوب جانتے تھے کہ آپ کی باتوں میں خلوص محبت اور ہمدردی ہے۔محترم چچا جان کی شادی محترم جناب ٹھیکیدار غلام رسول صاحب کی صاحبزادی سے زمانہ طالب علمی میں ہوئی تھی۔غانا میں جماعتی خدمات بجالانے کی زمانہ میں ہی چچا جان گھر سے باہر 258