قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 167 of 365

قسمت کے ثمار — Page 167

قوم کے لوگو ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب گزشتہ صدی میں برصغیر ہندوستان کو سیاسی و مذہبی دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود تھے۔مسلمان اس ملک پر لمبا عرصہ حاکم کی حیثیت میں رہے تھے مگر مغلوں کی اس حکومت نے اکبر اور اورنگ زیب کے زمانہ میں جوشان وشوکت حاصل کی تھی وہ حکمران خاندان کی باہم آویزش اور عیش وعشرت کی نذر ہوگئی اور آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ دہلی کی مرکزی حکومت برائے نام رہ گئی اور طوائف الملوکی کے باعث پنجاب میں جو حکومت قائم ہوئی وہ بھی جلد ہی باہمی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گئی اور ظلم و بربریت کے مترادف سمجھی جانے لگی۔پڑھا لکھا ہونا یا مسلمان ہونا ایک ناقابل معافی جرم ہو گیا۔اذان دینا، نماز پڑھنا یا دیگر اسلامی شعائر پر عمل پیرا ہونا قریباً ناممکن ہو گیا۔کئی مساجد غیر مسلم عبادت گاہوں میں تبدیل ہو گئیں۔ایسی حالت میں انگریز جنہیں یورپ میں جرمنی اور فرانس سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا، تجارت کی غرض سے ہندوستان پہنچ گئے ، مگر مذکورہ بالا حالات کی وجہ سے ان کو ہندوستان ایک ترنوالہ یا سونے کی چڑیا نظر آئی اور ان کو بغیر کسی غیر معمولی مقابلہ یا مشکل کے ہندوستان کی حکومت پر قبضہ حاصل ہو گیا۔انگریزوں کو اپنی حکومت مستحکم کرنے کے لئے ہندومسلم اختلاف سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا اور اس طرح چونکہ انہوں نے مسلمانوں کی برائے نام حکومت کو ختم کیا تھا اس لئے مسلمانوں کو دبانے اور محکوم رکھنے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جس سے مسلمانوں کی بددلی اور کم ہمتی میں اور اضافہ ہو۔غیر مسلم مسلمان حکومت کے خاتمہ کی وجہ سے خوش تھے اور اس وجہ سے وہ انگریز کے قریب ہو گئے اور انہیں علم ، تجارت و سیاست میں برتری حاصل ہوتی چلی گئی۔167