قسمت کے ثمار — Page 154
کوئی عورت مردانہ لباس پہن کر مرد بن سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا ہرگز نہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ جب یہ ممکن نہیں ہے تو پھر تم میرا خرقہ پہن کر مجھ جیسے کس طرح بن سکتے ہو۔اسی طرح حج کے موقع پر محض ظاہری طور پر دو ان سلی چادر میں پہن لینے اور بیت اللہ کے گرد طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی اور عرفات، مزدلفہ اور منیٰ وغیرہ مقامات مقدسہ میں قیام سے ہی انسان حاجی نہیں بن جاتا۔اگر زبان تو لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ كبد رہی ہو اور دل صنم آشنا ہو اور خودی و خود پسندی، کبر، ریاء ، جھوٹ ، منافقت وغیرہ سینکڑوں قسم کے بت سینے میں موجود ہوں تو ایسے شخص کو نہ نماز میں کچھیل سکتا ہے اور نہ ہی حجاز میں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: خوب یادرکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا۔اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے۔بغیر دل کے صرف زبانی دعائیں عبث ہیں۔ہاں دل کی دعائیں اصل دعائیں ہوتی ہیں۔“ قرآن مجید میں جہاں حج سے متعلق احکامات کا بیان ہے وہاں بار بار خصوصیت سے تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔اور سفر کے لئے زادراہ کے طور پر بھی سب سے بہتر زاد راہ یعنی تقویٰ کو لازم پکڑنے کا ارشاد ہے اور بار بار دعا و استغفار اور فطری محبت کے جوش سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم ہے۔چنانچہ فرمایا: فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة 201) یعنی جب تم اپنے مناسک کو ادا کر لو ڈ اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو کیا جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ذکر اللہ کوذکر آباء سے مشابہت دی ہے اس میں یہ سر ہے کہ آباء کی محبت ذاتی اور فطرتی محبت ہوتی ہے۔۔گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ خدا 154