قسمت کے ثمار — Page 153
چاہئے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھو یا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الہی ایسی پیدا ہو جاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان و مال کی پرواہ ہو، نہ عزیز واقارب سے جدائی کافکر ہو۔جیسے عاشق اور محب اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک بار یک نکتہ ہے۔۔طواف عشق الہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گو یا مرضات اللہ ہی کے گرد طواف کرنا چاہئے اور کوئی غرض باقی نہیں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102-103 جدید ایڈیشن) حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت میں ایک خاص وارفتگی کا اظہار ہوتا ہے اور حاجی کی لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ صداؤں سے اس کے حضور عجز وانکسار کے ساتھ بچھتا چلا جاتا ہے۔یہ وہ عبادت ہے جس کے متعلق آنحضرت سلیم کی بشارت ہے کہ جس کا حج مبر ور ہو جائے ، خدا تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا شرف پالے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے ایک نومولود بچہ۔گویا اسے ایک نئی روحانی پیدائش یا نئی زندگی حاصل ہوتی ہے۔مگر ہم یہ عجیب بات دیکھتے ہیں کہ کروڑ ہا مسلمانوں کی نمازوں اور لکھوکھہا مسلمانوں کے حج کرنے کے باوجود مسلم معاشرہ میں مجموعی طور پر وہ تقویٰ ، وہ راستی اور پاکیزگی نظر نہیں آتی جو ایسی عظیم الشان عبادات بجا لانے والے معاشرہ میں ہونی چاہئے۔اس کا سبب یہی ہے کہ اکثر و بیشتر ان عبادات کو محض ایک رسم کے طور پر ادا کیا جاتا ہے اور ان کی حقیقت کو دلوں میں قائم نہیں کیا جاتا۔حضرت ابوالحسن خرقانی رحمہ اللہ علیہ کے بارہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا کہ اپنا خرقہ مجھے پہنا دیجئے تا میں بھی آپ جیسا ہی بن جاؤں۔آپ نے پوچھا کیا 153