قسمت کے ثمار — Page 143
یا تو خدا تعالیٰ سے ڈرنے یا اس کے عذاب سے ڈرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔بندوں یا دوسری چیزوں سے ڈرنے کے معنوں میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اس قسم کا علاج بتانا آسان ہے اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔پس اس کا جواب وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (البقرۃ 46) میں دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس علاج پر عمل مشکل کام ہے لیکن جو خاشع ہو جائے اس کے لئے مشکل نہیں رہتا۔گویا گناہوں اور کمزوریوں سے بچنے کا حقیقی علاج خدا تعالیٰ پر ایمان ہے۔بغیر اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے انسان دوسری تدبیروں سے گناہ سے نہیں بچ سکتا۔دنیا نے بار ہا اس کا تجربہ کیا ہے لیکن افسوس وہ بار بار اس نکتہ کو بھول جاتی ہے۔حقیقی نیکی اور کامل نیکی کبھی بھی خدا تعالیٰ پر کامل یقین کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔فلسفیانہ دلائل انسان کے اندر سچا تقویٰ نہیں پیدا کر سکتے۔خدا تعالیٰ پر کامل ایمان کے بعد خوف بدیوں سے پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور طرح پیدا نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے انبیاء کی جماعتوں نے جو نیکی اور قربانی کا نمونہ دکھا یا وہ اور کوئی جماعت دنیا کی نہیں دکھا سکتی۔“ ( تفسیر کبیر جلد اول ص 298،296) خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہوئے صبر وصلوۃ کو اپنا طریق عمل بنا ئیں اور ہمارا ہر قول و عمل خشیت الہی سے مزین ہو۔آمین۔الفضل انٹرنیشنل 17 دسمبر 2004ء) 143