قسمت کے ثمار — Page 125
کمال عطا فر ما یا تھا کہ آپ رمضان میں نماز ظہر وعصر کے درمیان روزانہ ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر بھی بیان فرماتے۔آپ کے درس سے استفادہ کرنے والے اس درس کی علمی وادبی شان کو بڑی محبت و عقیدت سے یاد کرتے تھے۔حضرت میر محمد الحق صاحب کا درس حدیث خاص طور پر مقبول تھا تا ہم آپ بھی ابتداء میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔ان دونوں بزرگوں کے تراجم قرآن جماعت میں بہت مقبول ہیں۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی اپنے نہایت عالمانہ انداز میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔آپ کے درس کے نوٹ اخبار الحکم میں شائع ہوتے تھے اور ان سے بھی جماعت ایک علمی ورثہ کی طرح محبت وعقیدت سے استفادہ کرتی تھی۔ایک عرصہ تک جماعت میں یہی تراجم تھے۔تاہم حضرت مصلح موعود بنا تھنہ کے درس قرآن اپنی ایک خاص شان رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اُسی الاول ریشم کی وصیت کے مطابق آپ نے بھی باوجود اپنی غیر معمولی مصروفیات کے درس قرآن کا اہتمام کسی نہ کسی رنگ میں ضرور جاری رکھا۔جس دن آپ پر بیماری کا شدید حملہ ہوا اس دن بھی آپ نے مستورات میں قرآن مجید کا درس دیا تھا۔گویا آپ عمر بھر اس بنیادی کام کے لئے ضرور وقت نکالتے رہے۔بلکہ بیماری کے ایام میں بھی جب آپ بحالی صحت اور علاج کے لئے یورپ تشریف لائے تو آپ نے کسی قدر صحت بحال ہونے کے بعد قرآن مجید کی تفسیر کے بعض نادر نکات پر مشتمل خطبات ارشاد فرمائے۔تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر آپ کا ایک علمی زندہ جاوید کارنامہ ہے۔قرآن مجید کی یہ ایک ایسی خدمت ہے کہ آپ کو امت مسلمہ کے بلند پایہ مفسرین میں ایک خاص مقام پر فائز کر دیتی ہے۔تفسیر صغیر نے ایک لمبے عرصہ تک جماعت میں ترجمہ قرآن کی تعلیم و ترویج کی ضرورت کو با حسن رنگ سر انجام دیا کیونکہ یہ با محاورہ ترجمہ سلیس اور عام فہم زبان میں کیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع را یعالیہ نے اردو لفظی اور با محاورہ ترجمہ کو ایک اور جہت سے بیان فرما یا جو آجکل بکثرت طبع ہو کرضرورت مندوں کے ہاتھ میں پہنچ رہا ہے۔125