قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 116 of 365

قسمت کے ثمار — Page 116

کونے سے احمدی حضرات جا کر دعا کرتے اور ان کی خوش قسمتی پر رشک کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے اور وصیت کے کڑے معیار پر پورا اترنے والوں کے متعلق فرمایا ہے کہ: بلا شبہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ کل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔“ اسی طرح آپ فرماتے ہیں: (روحانی خزائن جلد 20 الوصیت 328 ) ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے اور ثابت ہو جائے گا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے پورا کر کے دکھلا دیا اور اپنا صدق ظاہر کر دیا۔بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا اور اس سے ان کی پردہ دری ہوگی اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہرگز دفن نہیں ہو سکیں گے۔“ (روحانی خزائن جلد 20 الوصیت 328 ) حضور علیہ السلام کے ان ارشادات سے پتہ چلتا ہے کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت حاصل کرنے والے، اپنی ایمانداری پر مہر لگاتے ہیں اور در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے اور اپنی بیعت کا اقرار انہوں نے پورا کر دیا ان عظیم نتائج کو دیکھتے ہوئے یقیناً ہر احمدی اس بات کی خواہش کرے گا کہ وہ بھی ان انعامات کو حاصل کرنے میں کوتا ہی نہ کرے اور اس خوش قسمت گروہ میں ہر قیمت پر شامل ہو جائے۔116