قسمت کے ثمار — Page 104
نوافل قرب الہی آنحضرت سانیا اسلام نے ایک دفعہ حضرت بلال بنی عنہ سے استفسار فرمایا کہ تم وہ کون سا اچھا عمل کرتے ہو جس کی وجہ سے مجھے جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ سننے میں آئی۔حضرت بلال بنی ہونے نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی ای تیم میں جب بھی اذان دیتا ہوں تو دورکعت نفل ضرور ادا کرتا ہوں۔اسی طرح میں ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔اور جب بھی میرا وضو ٹوٹتا ہے میں فوراً وضو کر لیتا ہوں اور اس وقت بھی دو رکعت نفل ادا کرتا ہوں۔حضور سلائی ایم نے اس عابدزاہد کی یہ عاشقانہ بات سن کر فرمایا: یہی وجہ ہوگی آنحضرت سالی سیستم نوافل کی ادائیگی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: راتوں کو نوافل کی ادائیگی کا اہتمام کیا کرو کیونکہ نوافل کی ادائیگی پہلے بزرگوں کا طریق اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ذریعہ، گناہوں سے دور رہنے اور بدیوں سے بچنے کا ذریعہ ہیں۔“ آنحضرت ملا لیا ایم کی سنت مقدسہ بھی یہی تھی کہ آپ مائیں ہی تم کثرت سے نفل ادا کرتے اور نفلی نمازوں میں قرآت و سجدے بہت لمبے لمبے کیا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ نوافل قرب الہی 104